نئی دہلی :جنوبی افریقہ کی 85 سالہ قانون داں نوانتھم نوی پلے کو امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں جمعہ، 9 اکتوبر کو 2026 کے نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ ناروے کی نویل کمیٹی نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے طاقتور افراد اور ریاستوں کو جواب دہ ٹھہرانے کے سلسلے میں ان کی طویل جدوجہد کو تسلیم کیا۔نوی پلے کا کیریئر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے دور سے لے کر بین الاقوامی فوجداری عدالتوں اور اقوام متحدہ تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی کوششوں نے اس اصول کو مضبوط بنانے میں مدد دی کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے متاثرین کو انصاف فراہم کرنا اور جرائم کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانا ضروری ہے۔
نسلی امتیاز کے دور سے بین الاقوامی انصاف تک کا سفر
23 ستمبر 1941 کو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیدا ہونے والی نوی پلے نے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں نسلی امتیاز قانونی اور ادارہ جاتی نظام کا حصہ تھا۔ انہوں نے نیٹل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔1967 میں وہ نیٹل صوبے میں وکالت شروع کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔ اس کے علاوہ وہ جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالت میں جج کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بھی بنیں۔ وکیل کی حیثیت سے انہوں نے نسلی امتیاز کے مخالفین کا دفاع کیا اور سیاسی قیدیوں، تشدد اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں سے متعلق مقدمات میں کام کیا۔ ان کے ابتدائی تجربات نے قانون کے سامنے مساوات اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے تئیں ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔ ان کی جدوجہد کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کسی شخص کے ساتھ نسل، سماجی حیثیت یا طاقت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ ہو اور ہر فرد کو انصاف حاصل کرنے کا یکساں موقع ملے۔
نیلسن منڈیلا نے اعلیٰ عدالت میں مقرر کیا
1995 میں نسلی امتیاز کے خاتمے اور نیلسن منڈیلا کے صدر منتخب ہونے کے بعد نوی پلے کو جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالت میں قائم مقام جج مقرر کیا گیا۔ اس طرح وہ اس عدالتی عہدے پر فائز ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بنیں۔ ان کی تقرری جنوبی افریقہ کے اس عدالتی نظام میں ایک اہم تبدیلی کی علامت تھی، جس میں طویل عرصے تک سیاہ فام افراد اور خواتین کو اعلیٰ عہدوں سے محروم رکھا گیا تھا۔بعد ازاں نوی پلے نے روانڈا کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 1999 میں اس کی صدر بنیں۔ اس کے بعد وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے وابستہ ہوئیں، جہاں انہوں نے 2003 سے 2008 تک خدمات انجام دیں۔ستمبر 2008 میں انہیں اقوام متحدہ کا ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 2014 تک اس اہم عہدے پر کام کیا۔ اس دوران انسانی حقوق کے تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام اور عالمی سطح پر جواب دہی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی کوششیں نمایاں رہیں۔
بھارت سے تعلق اور تمل پس منظر
نوی پلے کا بھارت سے تعلق، ان کے تمل آباؤ اجداد کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ ان کے بزرگ 1890 کی دہائی میں بھارت سے معاہدہ بند مزدوروں کی حیثیت سے جنوبی افریقہ منتقل ہوئے تھے، جہاں انہوں نے نیٹل کے علاقے میں گنے کے کھیتوں میں کام کیا۔نوی پلے کی پرورش جنوبی افریقہ کے ایک غریب علاقے میں تمل نژاد بھارتی خاندان میں ہوئی۔ ان کے خاندانی پس منظر میں ان بھارتی خاندانوں کی تاریخ جھلکتی ہے جو نوآبادیاتی دور میں بہتر روزگار کی تلاش میں جنوبی افریقہ منتقل ہوئے اور وہاں آباد ہو گئے۔ان کے والد نرینسامی نائیڈو بس ڈرائیور تھے۔ خاندان کی کفالت کے لیے وہ مچھلی پکڑنے سمیت دوسرے کام بھی کرتے تھے۔ ان کی والدہ سنتھاما نائیڈو گھریلو خاتون تھیں اور انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس جوڑے نے آٹھ بچوں کی پرورش کی اور ان میں مضبوط ہندو اقدار پیدا کیں۔ خاص طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان مساوات پر زور دیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب سماجی اور نسلی امتیاز کے باعث بھارتی نژاد خاندانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع محدود تھے۔نوی پلے کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح امتیازی نظام میں پرورش پانے والی ایک خاتون نے تعلیم، قانونی جدوجہد اور انسانی حقوق کے تحفظ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کی۔ نسلی امتیاز کے خلاف ان کی ابتدائی جدوجہد سے لے کر اقوام متحدہ میں خدمات تک، ان کا سفر قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

