Bharat Express DD Free Dish

Aircraft Crash Risk: تقریباً 20 سال میں 8,778 اموات، تقریباً 9 فیصد طیارہ حادثات میں پائلٹ کے کردار پر اٹھے سوال

ہوائی سفر وقت کے ساتھ پہلے سے زیادہ محفوظ ہوا ہے، لیکن پائلٹ کی جانب سے جان بوجھ کر کیے جانے والے اقدامات اب ایک نئے خطرے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ فلائی دبئی کے حالیہ واقعے کے بعد طیاروں کی حفاظت، پائلٹوں کی ذہنی صحت اور کاک پٹ کنٹرول کو لے کر ایک بار پھر بحث تیز ہوگئی ہے۔

ہوائی سفر کو آج دنیا کے محفوظ ترین ذرائع نقل و حمل میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی میں بہتری اور سخت حفاظتی ضوابط کی وجہ سے طیارہ حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم، ایوی ایشن سیکٹر اب ایک ایسے خطرے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے جو طیارے کے اندر ہی موجود ہوسکتا ہے۔ تشویش اس بات کو لے کر ہے کہ اگر کوئی پائلٹ جان بوجھ کر طیارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو مسافروں کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جائے۔ حال ہی میں سامنے آنے والے فلائی دبئی کے واقعے نے اس بحث کو ایک بار پھر تیز کردیا ہے۔

چونکا دینے والے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے مطابق 2005 سے 2025 کے درمیان دنیا بھر میں کمرشل ایوی ایشن سے متعلق 270 مہلک حادثات ریکارڈ کیے گئے۔ ان حادثات میں طیارے میں سوار 8,470 افراد کی جان گئی۔ دیگر متاثرہ افراد کی اموات کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد بڑھ کر 8,778 تک پہنچ جاتی ہے۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران کم از کم 800 افراد کی موت ایسے حادثات میں ہوئی، جن میں امریکی حکام نے پائلٹ کی جانب سے جان بوجھ کر کیے گئے اقدام کا شبہ ظاہر کیا یا ایسے کردار کی تصدیق کی۔

کئی بڑے معاملات پر اب بھی سوال برقرار

تاہم ہر طیارہ حادثے کی تحقیقات میں مختلف ممالک کی ایجنسیوں کی رائے ایک جیسی نہیں رہی ہے۔ کئی معاملات میں امریکی حکام کے نتائج اور مقامی تحقیقاتی رپورٹوں کے درمیان فرق بھی سامنے آیا ہے۔ بعض معروف حادثات کی حتمی تحقیقات اب تک مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ ان معاملات میں 2014 میں لاپتہ ہونے والی ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370، 2022 کا چائنا ایسٹرن طیارہ حادثہ اور 2025 کا ایئر انڈیا حادثہ شامل ہیں۔ امریکی حکام نے ان واقعات میں جان بوجھ کر کیے گئے اقدام کے امکان کی جانب اشارہ کیا ہے، تاہم متعلقہ ممالک کی تحقیقاتی ایجنسیوں نے اب تک ایسا کوئی حتمی نتیجہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا ہے۔

جرمن ونگز حادثہ ایک بڑی مثال

2015 میں پیش آنے والا جرمن ونگز طیارہ حادثہ ان واقعات میں شامل ہے جنہیں سرکاری طور پر جان بوجھ کر کیا گیا حادثہ قرار دیا گیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ معاون پائلٹ نے طیارے کو فرانسیسی الپس کے پہاڑوں سے ٹکرا دیا تھا۔ اس المناک حادثے میں مجموعی طور پر 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پروازیں بڑھیں، حادثات میں کمی آئی

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 20 برسوں کے دوران دنیا بھر میں ہوائی سفر کی تعداد تقریباً 37 فیصد بڑھی ہے۔ اس کے باوجود 2005 سے 2025 کے درمیان کمرشل ایوی ایشن میں اموات کی تعداد میں تقریباً 35 فیصد کمی آئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام تکنیکی یا آپریشنل وجوہات سے ہونے والے حادثات میں کمی آئی ہے، لیکن جان بوجھ کر کیے جانے والے اقدامات سے متعلق خطرہ اب زیادہ سنجیدہ موضوع بن کر سامنے آ رہا ہے۔

اب حفاظتی توجہ صرف مشینوں تک محدود نہیں

اسی وجہ سے ایئر لائنز، ریگولیٹری ادارے اور طیارہ ساز کمپنیاں اب صرف تکنیکی خرابیوں یا انسانی غلطیوں تک محدود نہیں رہیں۔ پائلٹوں کی ذہنی کیفیت، ان کی سخت جانچ، کاک پٹ کی سکیورٹی اور ایسی جدید ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جو ضرورت پڑنے پر کسی غلط ارادے سے کیے جانے والے اقدام کو روک سکے۔ فلائی دبئی کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ اگر کاک پٹ میں موجود شخص ہی خطرہ بن جائے تو مسافروں کی حفاظت کو کس طرح یقینی بنایا جاسکتا ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read