Bharat Express DD Free Dish

Case of sexual assault on a female student at LPU: لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ، طلبہ کی سکیورٹی اور تعلیم کو ترجیح دی جانی چاہیے: پروفیسر سلیم انجینئر

پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 21A تعلیم کی آئینی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیمپس میں پیدا ہونے والے بحران کا خمیازہ طلبہ کو نہیں بھگتنا چاہیے۔ یونیورسٹی کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ موجودہ تعطل کے نتیجے میں طلبہ کی تعلیم کا نقصان نہ ہونے پائے۔

نئی دہلی: مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر سلیم انجینئر نے پھگواڑہ کی لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو )میں طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی بے چینی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ ایل پی یو نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ تاہم پولیس نے ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیج، فورانسک شواہد اور فون ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے

میڈیا کے لیےجاری ایک بیان میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ہم یونیورسٹی انتظامیہ اور پنجاب حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ طلبہ کی سلامتی اور تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، اس وقت سب سے اہم تشویش طلبہ کی سکیورٹی ہونی چاہیے۔ طلبہ کی سکیورٹی سے متعلق ہر الزام کی منصفانہ تحقیقات ضروری ہے، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات اور تشدد کو ہرحال میں روکا جانا چاہئے۔ ہم ایل پی یو سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ کیمپس اور ہاسٹل کی سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے اور طلبہ کو اپنی شکایات درج کرانے کے لیے مناسب اور مؤثر ذرائع فراہم کئے جائیں۔

بحران کا خمیازہ طلبہ کو نہیں بھگتنا چاہیے

پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 21A تعلیم کی آئینی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیمپس میں پیدا ہونے والے بحران کا خمیازہ طلبہ کو نہیں بھگتنا چاہیے۔ یونیورسٹی کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ موجودہ تعطل کے نتیجے میں طلبہ کی تعلیم کا نقصان نہ ہونے پائے۔ ہم پنجاب حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ تحقیقات فوری اور غیر جانب دارانہ طور پر مکمل کی جائیں ساتھ ہی ایل پی یو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چھوٹی ہوئی کلاسوں اور ملتوی شدہ امتحانات کے لیے تعلیمی بحالی کا منصوبہ تیار کرے۔ طلبہ کو شکایت اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کا پورا حق ہے، لیکن ان کے خدشات اور مطالبات پرامن طریقے سے سامنے آنے چاہئیں۔ اس وقت ترجیح حقیقت سامنے لانے، سکیورٹی کو یقینی بنانے، اعتماد بحال کرنے اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کو دی جانی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read