مہنگائی کے دباؤ کے درمیان قرض لینے والوں کے لیے آنے والے مہینوں میں شرحِ سود سے متعلق تبدیلی اہم ہوسکتی ہے۔ جاپان کی معروف بروکریج کمپنی نومورا نے اپنی ایک رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) اکتوبر اور دسمبر میں ہونے والی مانیٹری پالیسی میٹنگز کے دوران ریپو ریٹ میں اضافہ کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق RBI دو مرحلوں میں مجموعی طور پر 0.50 فیصد تک ریپو ریٹ بڑھا سکتا ہے۔ ہر مرتبہ 25 بیسس پوائنٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹرمینل ریٹ 5.75 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ ٹرمینل ریٹ سے مراد شرحِ سود میں اضافے کے دور کے دوران پہنچنے والی بلند ترین شرح ہے۔ نومورا نے یہ بھی کہا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ RBI صرف ایک مرتبہ شرحِ سود میں اضافہ کرے، تاہم اس کی رپورٹ میں شرح بڑھانے کے امکان کو زیادہ بتایا گیا ہے۔ RBI نے کافی عرصے سے پالیسی ریٹ میں تبدیلی نہیں کی ہے، جبکہ اس سے قبل مرکزی بینک نے مجموعی طور پر تقریباً 1.25 فیصد شرح میں کمی کی تھی۔
فروری 2027 کے بعد شرحِ سود میں اضافے پر لگ سکتا ہے بریک
نومورا کی منگل کو جاری رپورٹ کے مطابق فروری 2027 کے بعد شرحِ سود میں اضافے کا سلسلہ رک سکتا ہے۔ رپورٹ میں اس کی دو اہم وجوہات بتائی گئی ہیں۔ پہلی وجہ آئندہ سال لوگوں کی خرچ کرنے کی صلاحیت میں ممکنہ کمی ہے، جبکہ دوسری وجہ مہنگائی میں نرمی آنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق طلب میں کمی آنے کی صورت میں مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آسکتی ہے، جس کے بعد RBI کو شرحِ سود مزید بڑھانے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
مہنگائی 6.3 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ
نومورا نے مہنگائی کے حوالے سے بھی محتاط اندازہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ چھ ماہ میں اشیائے خوردونوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اگست میں صارف قیمت اشاریہ (CPI) پر مبنی مہنگائی 4.8 فیصد رہی تھی، جو نومورا کے اندازے کے مطابق مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں بڑھ کر 6.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ 2027 کی پہلی ششماہی میں مہنگائی تقریباً 5.3 فیصد رہنے اور اس کے بعد دوسری ششماہی میں 4 فیصد سے نیچے آنے کا اندازہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 میں اوسط مہنگائی 5.2 فیصد اور مالی سال 2028 میں تقریباً 4 فیصد رہ سکتی ہے۔ کور مہنگائی کے لیے مالی سال 2027 میں 4.3 فیصد اور مالی سال 2028 میں تقریباً 4 فیصد کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
کھانے پینے کی اشیا مہنگائی کے لیے بڑا خطرہ
نومورا کے مطابق اس وقت غذائی مہنگائی مجموعی مہنگائی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کم بارش اور خریف فصل کی کمزور بوائی کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر دباؤ کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے چینی کے ذخیرے کی حد مقرر کرنے اور پیاز کی کم قیمت پر فروخت سمیت کچھ اقدامات کیے ہیں، جن سے قیمتوں کے دباؤ میں کچھ کمی آسکتی ہے۔ تاہم اگر فصلوں کی پیداوار کم رہتی ہے تو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اناج اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عام صارفین کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔
GDP گروتھ کے اعداد و شمار میں ملا جلا رجحان
نومورا کی رپورٹ میں اقتصادی ترقی کے حوالے سے بھی مختلف اشارے پیش کیے گئے ہیں۔ مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں بھارت کی حقیقی GDP گروتھ 7.8 فیصد رہی، جو توقعات سے بہتر رہی۔ اگست میں کریڈٹ گروتھ بھی سالانہ بنیاد پر 19.1 فیصد رہی۔ تاہم رپورٹ میں مستقبل کے لیے کچھ خطرات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ کم بارش کے باعث خریف اور ربیع دونوں فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کا اثر دیہی علاقوں میں کھپت پر پڑ سکتا ہے۔ اگر کھانے پینے کی اشیا پر اخراجات بڑھتے ہیں تو لوگوں کے پاس دیگر اشیا پر خرچ کرنے کے لیے کم رقم بچے گی، جس سے غیر ضروری اشیا کی طلب متاثر ہوسکتی ہے۔
AI سے سروس سیکٹر پر بھی دباؤ کا خدشہ
رپورٹ میں بھارت کے سروس سیکٹر پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بھارت کا سافٹ ویئر سروس سرپلس 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 51.4 ارب ڈالر رہا، جو 2025 کی چوتھی سہ ماہی کے 53 ارب ڈالر کی بلند سطح سے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں یہ سہ ماہی بنیاد پر 2.9 فیصد کم ہوا، جبکہ دوسری سہ ماہی میں مزید 0.1 فیصد کمی درج کی گئی۔ نومورا نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ پورٹ فولیو فلو کی کمزور صورتحال، FCNR(B) میں کم سرمایہ آنا اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث بھارت کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے لیے مالی وسائل کا انتظام مشکل ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر نومورا کی رپورٹ میں آنے والے مہینوں کے دوران بھارت میں مہنگائی، شرحِ سود، غذائی قیمتوں اور بیرونی مالی دباؤ جیسے عوامل پر نظر رکھنے کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


