خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام ’ترقی پسند اردو خواتین افسانہ نگار اور سماجی شعو ر‘کے عنوان سے ایک توسیعی خطبے کا انعقاد ابوالکلام آزاد اکیڈمک بلڈنگ کے ہائبرڈ ہال، دوسری منزل پر کیا گیا۔ تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ سماجیات کی صدر پروفیسر عذرا عابدی کا خیرمقدم کیا اور موضوع کی اہمیت پرقدرے تفصیل سے روشنی ڈالی ۔اس موقع پر پروفیسر عذرا عابدی نے توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے ترقی پسند اردو افسانے کی روایت اور اس میں خواتین افسانہ نگاروں کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو محض جمالیاتی اظہار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے معاشرے کے حقیقی مسائل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
خواتین افسانہ نگاروں نے عورت، خاندان، طبقاتی ناہمواری، معاشی استحصال، گھریلو جبر، تعلیم، سماجی پابندیوں اور صنفی امتیاز جیسے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا اور ان مسائل کے پس پشت موجود سماجی، معاشی اور تہذیبی اسباب کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔پروفیسر عذرا عابدی نے کہا کہ سماجی شعور کا مطلب صرف معاشرتی مسائل کی نشاندہی کرنا نہیں ہے بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ مسائل کیوں پیدا ہوتے ہیں، ان کے اسباب کیا ہیں اور طاقت کے کون سے نظام انھیں برقرار رکھتے ہیں۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے عورت کے مسائل کو محض نجی یا انفرادی مسئلہ سمجھنے کے بجائے انہیں وسیع تر سماجی ڈھانچے سے مربوط کیا۔
رشید جہاں، عصمت چغتائی، رضیہ سجاد ظہیراورہاجرہ مسرورکی افسانہ نگاری کا دیا گیا حوالہ
انھوں نے رشید جہاں، عصمت چغتائی، رضیہ سجاد ظہیر اور ہاجرہ مسرورکی افسانہ نگاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان افسانہ نگاروں کے یہاں عورت محض ایک مظلوم یا دیکھی جانے والی شخصیت نہیں بلکہ اپنی ذات، تجربے اورشعورکے ساتھ ’دیکھنے والی شخصیت ‘کے طورپرسامنے آتی ہے۔ ان کا بنیادی کارنامہ یہی ہے کہ انھوں نے صدیوں سے مرد کی نگاہ سے دیکھی جانے والی عورت کو خود اپنی نگاہ سے دنیا، معاشرے اور مرد کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ انھوں نے کہا کہ ترقی پسند خواتین افسانہ نگاروں کے یہاں عورت کا پبلک اسپیس میں وجود، اس کا جسم اور اس کی نفسیات، ذات، طبقے اور جنس کا باہمی تعلق، جاگیردارانہ طاقت، مرد اساس معاشرہ اور طاقت کے مختلف نظام، اہم موضوعات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ان موضوعات کے ذریعے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ معاشرے نے عورت کے لیے کون سا کردارمتعین کیا ہے، اس کی تعلیم، اخلاقیات اور طرزِزندگی کے فیصلے کون کرتا ہے اوران فیصلوں کی بنیاد کیا ہے۔
پروفیسر ثوبان سعید نے خطبے کے مختلف پہلوؤں کی معنویت پر ڈالی روشنی
توسیعی خطبے کے اختتام پر پروفیسر ثوبان سعید نے خطبے کے مختلف پہلوؤں کی معنویت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر عذرا عابدی نے ترقی پسند خواتین افسانہ نگاروں کے افسانوی متون کو ایک نئے زاویے سے ڈی کوڈ کیا ہےجس کے نتیجے میں اس موضوع کے حوالے سے ہمارے ذہنوں میں کئی نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پروفیسر عذرا عابدی نے ان افسانہ نگاروں کے افسانوی متون کے بطن سے عصرحاضر میں عورت سے متعلق مسائل اور سوالات کو مربوط کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ رشید جہاں، عصمت چغتائی، رضیہ سجاد ظہیر اور ہاجرہ مسرور نے اپنے عہد میں جو سوالات اٹھائے تھے، وہ آج بھی بدلتی ہوئی سماجی صورتحال کے ساتھ ہمارے معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ ان سوالات پر سنجیدہ اور کھلے انداز میں گفتگو کی ضرورت ہےتاکہ ماضی کے ادبی تجربات کو عصرِ حاضر کے سماجی مسائل سے مربوط کرکے نئے فکری امکانات پیدا کیے جا سکیں۔اس توسیعی خطبے کے اختتام کے بعد ریسرچ اسکالرس اور طلبہ نے اہم سوالات کئے جس کا پروفیسر عذرا عابدی نے تشفی بخش جوابات دیئے۔ اس اہم ادبی پروگرام کی نظامت ڈاکٹر موسی رضا اور شکریے کے کلمات ڈاکٹر ظفرالنقی نے ادا کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر مرتضٰی علی اطہر، ڈاکٹراعظم انصاری، ڈاکٹرعبد الحفیظ، ڈاکٹرمنورحسین، ڈاکٹرسدھارتھ سدیپ، ڈاکٹرحیدر مہدی، ڈاکٹر ضیا جعفری، ڈاکٹرعائشہ فاطمہ شہناز، ڈاکٹرمزمل کریم، ڈاکٹرمدثر، ڈاکٹراخلاق اورڈاکٹرعبد الرحمٰن کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے اساتذہ ،ریسرچ اسکالرس اور طلبہ موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



