ہندوستان کے سیاحتی شعبے نے ترقی اور آمدنی کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری سرکاری حقائق نامے کے مطابق سال 2025 میں ملک کے اندر گھریلو سیاحتی دوروں کی تعداد بڑھ کر ریکارڈ 428.55 کروڑ تک پہنچ گئی، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 2.53 کروڑ رہی۔ سیاحت سے حاصل ہونے والی غیر ملکی زرِمبادلہ کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 2,76,831 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئی۔
جی ڈی پی میں 5.22 فیصد حصہ، 8.46 کروڑ افراد کو روزگار
سیاحت کا شعبہ اب صرف سیر و تفریح تک محدود نہیں رہا بلکہ ہندوستانی معیشت کے اہم شعبوں میں شامل ہوگیا ہے۔ سال 2023-24 کے دوران ملک کی مجموعی جی ڈی پی میں سیاحت کا حصہ 5.22 فیصد رہا۔ اسی دوران اس شعبے نے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر 8.46 کروڑ روزگار کو سہارا دیا۔ عالمی سطح پر بھی سیاحت کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سال 2024 میں عالمی جی ڈی پی میں سیاحت کی صنعت کا حصہ 10.9 ٹریلین ڈالر رہا، جو عالمی معیشت کا تقریباً 10 فیصد ہے۔
ای ویزا سہولت میں بڑا اضافہ، 172 ممالک شامل
غیر ملکی سیاحوں کے لیے ہندوستان کا سفر آسان بنانے کے لیے ای ویزا سہولت کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔ سال 2014 میں صرف 43 ممالک سے شروع ہونے والی ای ویزا سہولت اب 172 ممالک تک پہنچ چکی ہے۔
ہندوستان میں جاری ہونے والے مجموعی ویزوں میں ای ویزا کی حصہ داری 78 فیصد ہے۔ ان میں سے 95 فیصد درخواستوں کو صرف 72 گھنٹوں کے اندر منظور کر لیا جاتا ہے۔ ملک میں 37 ہوائی اڈوں اور 38 بندرگاہوں سمیت مجموعی طور پر 88 بین الاقوامی داخلی مقامات فعال ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے ’انکریڈیبل انڈیا‘ کو نئی شکل
عالمی یوم سیاحت سے قبل جاری رپورٹ کے مطابق نئے انداز میں تیار کیا گیا ’انکریڈیبل انڈیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم‘ اور ’نِدھی+‘ پورٹل سیاحوں کو ذاتی نوعیت کے تجربات فراہم کر رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز کے ذریعے مسافروں کو حقیقی وقت میں موسم اور مختلف شہروں سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب سوادیش درشن 2.0، پرساد اسکیم اور کروز ٹورزم کے ذریعے مقامی سطح پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
