چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لے کر ملک کی سیاست میں ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔ 23 ستمبر کو سامنے آنے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے 2 دیگر ارکان نے گزشتہ تقریباً 10 ماہ کے دوران کمیشن کے بعض فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراض درج کرایا۔ رپورٹ کے مطابق ان میں کچھ فیصلے ایسے بھی تھے جن کے بارے میں دونوں الیکشن کمشنروں نے کہا کہ انہیں پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے ساتھ ان کی گرفتاری اور فوجداری کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی اور ادھو ٹھاکرے سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں نے یہ مطالبہ کیا ہے۔ تاہم یہ سیاسی مطالبات ہیں، کسی عدالت کا یہ فیصلہ نہیں کہ گیانیش کمار نے کوئی فوجداری جرم کیا ہے۔
پہلے سمجھیں، الیکشن کمیشن میں فیصلے کیسے ہوتے ہیں؟
ہندوستان کا الیکشن کمیشن 3 ارکان پر مشتمل آئینی ادارہ ہے، جس میں ایک چیف الیکشن کمشنر اور 2 الیکشن کمشنر شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ تنازع اسی وقت نمایاں ہوا جب ان دونوں الیکشن کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، کی جانب سے مختلف معاملات پر باضابطہ اعتراضات سامنے آنے کی رپورٹ شائع ہوئی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اعتراضات ووٹر فہرست میں نئے نام شامل کرنے، نام حذف کرنے اور دوبارہ شامل کرنے، فارم 6 میں تبدیلی اور ووٹر ڈیٹا بیس کے انتظام جیسے معاملات سے متعلق تھے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان اعتراضات کو فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور کمیشن نے اپنے فیصلوں کے بارے میں اپنا مؤقف بھی پیش کیا ہے۔ اس لیے کسی فیصلے پر اختلاف اور کسی عمل کو فوجداری جرم قرار دینا 2 الگ قانونی معاملات ہیں۔
2023 کا قانون اور دفعہ 16 کیا کہتی ہے؟
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری، سروس کی شرائط اور مدت سے متعلق 2023 کے قانون کی دفعہ 16 اس تنازع میں اہم ہے۔ قانون کے مطابق، کوئی عدالت ایسے شخص کے خلاف سول یا فوجداری کارروائی شروع یا جاری نہیں رکھ سکتی جو موجودہ یا سابق چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر رہا ہو، اگر متعلقہ عمل، بات یا کام اس کے سرکاری فرائض یا ذمہ داری ادا کرنے کے دوران کیا گیا ہو۔ یہ دفعہ 2 فروری 2024 سے نافذ ہے۔ یعنی اگر کسی کارروائی کا تعلق براہِ راست الیکشن کمشنر کے سرکاری فرائض کی انجام دہی سے ہے اور وہ دفعہ 16 کے دائرے میں آتی ہے، تو اس کے خلاف عدالت میں سول یا فوجداری کارروائی پر قانونی رکاوٹ موجود ہے۔
کیا دفعہ 16 کا مطلب گرفتاری پر مکمل پابندی ہے؟
یہاں قانون کی زبان کو سمجھنا ضروری ہے۔ دفعہ 16 میں لفظ گرفتاری یا تحقیقات پر براہِ راست پابندی عائد نہیں کی گئی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عدالت ایسے مخصوص معاملات میں سول یا فوجداری کارروائی کو قبول یا جاری نہیں رکھ سکتی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دفعہ 16 ہر صورتحال میں چیف الیکشن کمشنر کی گرفتاری پر مکمل پابندی عائد کرتی ہے۔ اصل قانونی سوال یہ ہوگا کہ جس عمل یا فیصلے کو بنیاد بنا کر کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہ واقعی الیکشن کمشنر کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔ اس کا فیصلہ معاملے کے حقائق، متعلقہ قوانین اور عدالت کی تشریح پر منحصر ہوگا۔
دفعہ 16 کی آئینی حیثیت بھی عدالت میں زیرِ غور
دفعہ 16 کی آئینی حیثیت کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ جنوری 2026 میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا، تاہم اس مرحلے پر دفعہ 16 کے نفاذ پر روک نہیں لگائی گئی تھی۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں قانونی تصویر یہ ہے کہ دفعہ 16 نافذ ہے اور سرکاری فرائض سے متعلق مخصوص اعمال کے لیے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کو اہم قانونی تحفظ حاصل ہے۔ تاہم یہ دفعہ خود لفظی طور پر گرفتاری سے مکمل استثنیٰ نہیں دیتی۔ اس تحفظ کا دائرہ اور آئینی حیثیت عدالت کے سامنے زیرِ غور ہے۔موجودہ سیاسی تنازع میں اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ اپنی جگہ ہے، لیکن کسی شخص کے خلاف فوجداری ذمہ داری طے کرنا عدالت کا قانونی عمل ہے۔ گیانیش کمار کے معاملے میں بھی اصل سوال یہی ہوگا کہ جن اقدامات پر اعتراض کیا جا رہا ہے، وہ دفعہ 16 کے تحت محفوظ سرکاری فرائض کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





