دہلی کے شالی مار باغ علاقے میں انتظامیہ نے سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے نام پر بلڈوزر چلا دیے۔ اس دوران مدینہ مسجد کو شہید کرنے کے ساتھ ہی اس کے آس پاس بنے کئی مکانات کو منہدم کردیا گیا۔ کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
بلڈوزر ایکشن پر اپوزیشن کا حملہ
اس کارروائی سے متعلق اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے بجائے بی جے پی مذہب کے نام پر سیاست کر رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے الزام لگایا کہ بی جے پی فرقہ واریت پھیلا کر اقتدار میں برقرار رہنا چاہتی ہے اور ’تنوع میں اتحاد‘ کے جذبے کو کمزور کر رہی ہے۔
اودھیش پرساد نے کیا کہا؟
اودھیش پرساد نے مزید کہا کہ 2027 کا اتر پردیش اسمبلی انتخاب تاریخی ہوگا۔ ان کے مطابق یہ انتخاب بی جے پی کے زوال کا اشارہ دے گا اور اکھلیش یادو کی قیادت میں سماج وادی پارٹی کی حکومت بنے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر بی جے پی 403 اسمبلی نشستوں میں سے 50 نشستیں بھی جیت گئی تو یہ ملک کے لیے حیران کن بات ہوگی۔
کانگریس نے کارروائی کو غلط قرار دیا
کانگریس لیڈر ابھیشیک دت نے بھی اس کارروائی کو غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں جرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں، لیکن حکومت انہیں روکنے میں ناکام ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ عصمت دری اور قتل جیسے سنگین جرائم کرنے والوں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ اس کے ساتھ ہی انہوں نے رام مندر میں چوری کرنے والوں کے خلاف بھی اسی طرح کی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مقامی لوگوں نے کیا کہا؟
مقامی لوگوں نے کارروائی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے مذہبی مقام کو نشانہ بنا کر غلط کیا ہے۔دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم صرف سڑک چوڑی کرنے اور غیر قانونی قبضے ہٹانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔کارروائی کے بعد انتظامیہ صورتحال پر سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے پولیس فورس تعینات ہے۔ یہ معاملہ اب سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں اپوزیشن اسے مذہب پر مبنی سیاست قرار دے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



