نئی دہلی: دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے دائر ضمانت درخواستوں پر دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ کی ڈویژن بنچ ان درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (ASG) ایس وی راجو عدالت میں موجود نہیں تھے، جس کے باعث عدالت نے معاملے کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
دہلی پولیس نے ضمانت کی سخت مخالفت کی
عدالت کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد دہلی پولیس نے اس معاملے میں اپنا تفصیلی جواب داخل کر دیا ہے۔ پولیس نے عمر خالد اور شرجیل امام دونوں کی ضمانت کی سخت مخالفت کی ہے۔ اپنے حلف نامے میں دہلی پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ 2020 کے دہلی فسادات کے پیچھے عمر خالد اور شرجیل امام دونوں اہم ’ماسٹر مائنڈ‘ تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کی جانب سے دائر ضمانت درخواستیں غلط فہمی پر مبنی ہیں اور قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہیں۔
دہلی پولیس نے جنوری 2026 میں سپریم کورٹ کی جانب سے دونوں کی ضمانت درخواستیں مسترد کیے جانے کا بھی حوالہ دیا ہے۔ پولیس کے مطابق، سپریم کورٹ نے اس وقت دونوں کی مبینہ حیثیت کو ’کمانڈ اتھارٹی‘ سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی مبینہ شمولیت دیگر شریک ملزمان سے ’معیاری طور پر مختلف‘ تھی۔
کڑکڑڈوما کورٹ سے بھی مسترد ہو چکی ہے ضمانت درخواست
عمر خالد اور شرجیل امام نے کڑکڑڈوما کورٹ کی جانب سے ضمانت درخواست مسترد کیے جانے کے بعد دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ گزشتہ 4 جولائی کو کڑکڑڈوما کورٹ نے دونوں کی ضمانت درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ’سید افتخار اندرابی بنام این آئی اے‘ معاملے میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی گئی تھی اور سابقہ قانونی تشریحات پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ تاہم، دہلی پولیس کا شروع سے مؤقف رہا ہے کہ فروری 2020 میں ہونے والے دہلی فسادات میں 53 افراد کی جان گئی تھی اور 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، اس لیے ملزمان کی مبینہ شمولیت کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔
کئی دیگر افراد بھی معاملے میں ملزم
اس معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کے علاوہ گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد پر بھی یو اے پی اے (UAPA) اور انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت فسادات کی مبینہ سازش رچنے کے الزامات عائد ہیں۔ اب دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 30 ستمبر 2026 کو ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



