نئی دہلی : راجیہ سبھا میں جمعہ کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ایوان میں موجودگی اور ان سے بیان دلوانے کے مطالبے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست نوک جھونک ہوئی۔ قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ خود ایوان میں آکر بیان دیں۔ انہوں نے چیئرمین کی بات کو بھی نظر انداز کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی خواہش سے چیئرمین نے حکومت کو آگاہ کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔دوسری جانب وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کس معاملے پر کون سا وزیر ایوان میں جواب دے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید ٹکراؤ کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک اور بعد میں پیر، 10 اگست کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کا معاملہ
دراصل اپوزیشن 20 جولائی کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کی مخالفت کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ احتجاج کے دوران طلبہ پر غیر مناسب طریقے سے طاقت کا استعمال کیا گیا اور وہ اسی معاملے پر وزیر داخلہ امیت شاہ سے ایوان میں جواب چاہتے ہیں۔ملکارجن کھڑگے نے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کو ایوان میں آنا چاہیے اور اس معاملے پر بیان دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پہلے بھی یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آکر صورتحال واضح کریں۔کھڑگے نے کہا کہ چیئرمین نے اپوزیشن کے جذبات سے وزیر پارلیمانی امور کو آگاہ کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین کی بات کا بھی احترام نہیں کیا جائے گا تو یہ ایوان کی توہین کے مترادف ہے۔
’اپوزیشن طے نہیں کرے گی کون وزیر جواب دے گا‘
اس پر کرن رجیجو نے حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی نظام میں واضح اصول ہے کہ جس معاملے کا تعلق جس وزارت سے ہو، اسی وزارت کا وزیر ایوان میں اس کا جواب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن یہ طے نہیں کر سکتی کہ کسی مخصوص مسئلے پر کون سا وزیر ایوان میں موجود ہو۔رجیجو نے کہا، ’وزیر داخلہ صبح سے دیر رات تک پارلیمنٹ کے احاطے میں موجود رہتے ہیں، لیکن ایوان میں جس موضوع سے متعلق وزارت ہوتی ہے، جواب دینا اسی وزیر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اپوزیشن کا اختیار نہیں ہے کہ وہ طے کرے کہ کس معاملے پر کون سا وزیر ایوان میں جواب دے گا۔
چیئرمین کی ہدایت یا صرف اپوزیشن کا مطالبہ؟
کرن رجیجو نے یہ بھی واضح کیا کہ چیئرمین نے حکومت کو صرف اپوزیشن کے مطالبے اور جذبات سے آگاہ کیا تھا، کسی وزیر کو ایوان میں آنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ اس کے ارکان ایوان میں ہنگامہ کرنے کے بعد وہاں سے چلے جاتے ہیں، جبکہ وزیر داخلہ صبح سے دیر رات تک پارلیمنٹ میں موجود رہتے ہیں۔رجیجو کے بیان کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں کچھ دیر تک شور شرابہ جاری رہا۔ وزیر داخلہ کی موجودگی اور ان سے بیان دلوانے کے مطالبے پر حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے موقف پر قائم رہے، جس سے ایوان کا ماحول مزید گرم ہو گیا۔صورتحال کو دیکھتے ہوئے چیئرمین نے کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ دوبارہ کارروائی شروع ہونے کے بعد بھی ہنگامہ جاری رہا، جس کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی پیر، 10 اگست کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
