Bharat Express DD Free Dish

JPSC Students Protest: ’’کسی دلال نہیں، سیدھے وزیر اعلیٰ سے ہوگی بات!‘‘ جے پی ایس سی دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کا حکومت کو دوٹوک پیغام

جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ دھاندلی کے خلاف رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ صرف وزیر اعلیٰ سے اور میڈیا کی موجودگی میں ہی بات چیت کریں گے۔

جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کے امتحان میں مبینہ بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے خلاف ریاستی دارالحکومت رانچی میں طلبہ کی تحریک مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان تعطل ختم کرنے کے لیے مجوزہ مذاکرات سے قبل ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے حکومت کے سامنے واضح شرط رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی نمائندہ وفد، سرکاری افسران یا وزراء کی کمیٹی کے ساتھ بند کمرے میں بات چیت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات صرف وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہوں گے اور پوری بات چیت میڈیا کی موجودگی میں شفاف انداز سے کی جائے گی۔

ایس ڈی او کے پیغام پر طلبہ کا جواب

طلبہ کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) کے ذریعے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے جواب میں طلبہ تنظیموں نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات سے فرار نہیں ہو رہے بلکہ بات چیت کے لیے پوری طرح تیار ہیں، تاہم مذاکرات کی میز پر خود وزیر اعلیٰ کی موجودگی ضروری ہے۔ دوسری جانب حکومت طلبہ سے بات چیت کے لیے وزراء کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے اور جلد اجلاس کی تاریخ و وقت کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ طلبہ نے میڈیا کی موجودگی کی شرط رکھ کر اب فیصلہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے۔

اب تک 19 افراد گرفتار

ادھر جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کر رہی جھارکھنڈ سی آئی ڈی مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے۔ تفتیشی ٹیم اب تک 19 ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج چکی ہے۔ حالیہ گرفتاریوں میں ایک کمپیوٹر آپریٹر اور تین امیدوار بھی شامل ہیں، جن پر امتحانی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔تاہم احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ صرف چند گرفتاریوں سے معاملہ ختم نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق جب تک پورے امتحانی عمل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں ہوتیں اور وزیر اعلیٰ کی سطح پر ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، رانچی کی سڑکوں پر ان کا احتجاج اسی شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read