بانکی پور ضمنی انتخاب کی ووٹوں کی گنتی سے عین قبل جن سوراج آندولن کے بانی پرشانت کشور نے بہار کے چیف الیکشن افسر سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے پولنگ کے دن پیش آنے والے واقعات اور انتظامیہ کے کردار پر سنگین اعتراضات درج کرائے۔ پرشانت کشور کا کہنا تھا کہ بی جے پی اور جن سوراج کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے معاملے میں انہوں نے انتخابی حکام کو باضابطہ شکایت دی ہے۔ ان کے مطابق پولنگ کا ماحول غیر جانبدارانہ نہیں تھا اور کئی مقامات پر ووٹروں اور کارکنوں کو ہراساں کیا گیا۔
پولیس اور ایس ایس پی کو تنقید کا نشانہ بنایا
جن سوراج کے سربراہ نے پٹنہ پولیس اور وہاں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے جن سوراج کے کارکنوں کو گرفتار کیا اور انہیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے کئی ووٹر کھل کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کر سکے۔
’کم ووٹنگ کے لیے انتظامیہ ذمہ دار‘
پرشانت کشور نے کم ٹرن آؤٹ کے لیے بھی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر پولنگ کا عمل سست رکھا گیا، جس کے باعث بڑی تعداد میں ووٹر ووٹ ڈالنے سے محروم رہ گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دوپہر کے بعد کئی ووٹروں کو پولنگ مراکز پر روک دیا گیا، جس سے ووٹنگ کا تناسب متاثر ہوا۔
الیکشن کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے بتایا کہ پورے معاملے کی شکایت بہار کے چیف الیکشن افسر کے سپرد کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ نئی دہلی میں الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کریں گے۔ ان کے مطابق جمہوری عمل کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ان الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔
بی جے پی پر الزامات
پرشانت کشور نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ممکنہ شکست کے خدشے سے پارٹی نے ایسے حالات پیدا کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس متعدد حقائق اور شواہد موجود ہیں جو انتخابی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کریں گے۔
شواہد پیش کرنے کا اعلان
جن سوراج کے سربراہ نے اعلان کیا کہ وہ اتوار کی صبح 11 بجے میڈیا کے سامنے تمام شواہد اور دستاویزات پیش کریں گے۔ ایسے میں ووٹوں کی گنتی سے قبل بانکی پور ضمنی انتخاب کا سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کا امکان ہے۔ اب سب کی نظریں انتخابی نتائج اور ان الزامات پر ممکنہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



