نئی دہلی : لوک سبھا میں منگل کے روز اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان شدید لفظی جنگ دیکھنے کو ملی۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے، پیپر لیک کے واقعات روکنے میں ناکامی اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ مرکزی وزیر کیرن رجیجو نے ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن کو سخت جواب دیا۔ اس دوران ایوان میں کئی بار تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آج کا ناراض نوجوان کل اس کے لیے ایک بڑی سیاسی آفت ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کی تعلیمی بنیاد مضبوط ہوگی تو ترقی بھی یقینی ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سال 2024 میں بھی اینٹی پیپر لیک قانون نافذ کیا گیا تھا تو اس کے باوجود مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات کیوں پیش آئے؟ اگر پرانا قانون مؤثر تھا تو نیا بل لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس پر جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے کہا کہ عوامی احتجاج کے بعد قانون بنانا بہتر ہے یا پھر احتجاج دبانے کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنا؟ ان کے اس بیان کے بعد ایوان کا ماحول مزید گرم ہو گیا۔رجیجو کے تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ انہوں نے ایمرجنسی کا دور نہیں دیکھا، لیکن دہلی میں حالیہ حالات کسی ایمرجنسی سے کم نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس کے گولے برسائے گئے، سڑکوں پر کیل نما رکاوٹیں لگائی گئیں اور ان میں بجلی کا کرنٹ بھی چھوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو ایمرجنسی یاد آ رہی ہے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایمرجنسی کے بعد اقتدار تبدیل ہوا تھا اور اس بار بھی تبدیلی آئے گی۔
اکھلیش یادو نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “چڑھاوا بھی چوری ہوا اور گپت دان بھی چوری ہوا۔ ایسے کاموں کے لیے خدا بھی حکومت کو معاف نہیں کرے گا۔” انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے سب سے پہلے پرائمری تعلیم کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ایک لاکھ سے زائد پرائمری اسکول بند ہو چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اسکول اتر پردیش میں بند کیے گئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے ملک میں سات لاکھ سے زیادہ اسکول تھے، جو اب کم ہو کر تقریباً چھ لاکھ رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق ثانوی اسکول بھی مسلسل بند کیے جا رہے ہیں۔ اکھلیش یادو نے 69 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں اور نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کے بچوں کو آگے بڑھنے سے روکا جا رہا ہے اور سب سے زیادہ نقصان پسماندہ طبقات کو پہنچا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے دسویں، بارہویں اور نیٹ سمیت مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسلسل بے ضابطگیوں سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے نیٹ امتحان سے متعلق ان طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی جان گنوائی، اور متاثرہ خاندانوں کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ دہرایا۔اپنی تقریر میں اکھلیش یادو نے مولانا جوہر یونیورسٹی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں اس ادارے کا قیام عمل میں آیا، لیکن اس کے بعد کوئی نئی سرکاری یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو جامعات پہلے سے موجود ہیں، انہیں بھی کمزور کرنے یا بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تقریر کے اختتام پر اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت تعلیم اور ترقی کے بجائے نفرت کی سیاست کر رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں اور غریب خاندانوں کے بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

