جن شکتی جنتا دل کے صدر تیج پرتاپ یادو۔
جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے سربراہ تیج پرتاپ یادو منگل (28 جولائی 2026) کوبیورجیل سے رہا ہوگئے۔ ان کے خلاف پٹنہ کے گاندھی میدان تھانے میں 12 سے زائد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جن میں قتل کی کوشش، فساد بھڑکانے اوردیگرسنگین الزامات شامل تھے۔ تیج پرتاپ یادو25 جولائی کونیٹ پیپرلیک معاملے اورمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفے کے مطالبے پرطلبا تنظیموں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) اورریوولوشنری یوتھ ایسوسی ایشن (آروائی اے) کی جانب سے بلائے گئے بہاربند کی حمایت میں پٹنہ میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔
پہلے حراست، پھر گرفتاری
پولیس نے احتجاج کے دوران 25 جولائی کودن میں تیج پرتاپ یادوکوحراست میں لیا تھا، تاہم کچھ دیربعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اسی روزشام کے وقت جب وہ پٹنہ کے سٹی سینٹر مال میں موجود تھے توپولیس کی ایک بڑی ٹیم وہاں پہنچی اوردوبارہ انہیں حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں پولیس انہیں شہرسے باہرنوبت پورتھانے لے گئی، جہاں سے عدالتی تحویل میں بھیجنے کے بعد انہیں بیورجیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
حکومت نے مقدمات واپس لینے کا کیا اعلان
گزشتہ پیر (27 جولائی) کوبہارکے محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے طلبہ احتجاج کے دوران گرفتارافراد کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اسی فیصلے کے تحت تیج پرتاپ یادوکوبھی رہا کیا گیا۔ بہارپولیس ہیڈکوارٹرکے مطابق، طلبہ احتجاج کے سلسلے میں ریاست بھرسے 355 افراد کوجیل بھیجا گیا تھا۔
تیجسوی یادو نے دی تھی تحریک تیز کرنے کی وارننگ
تیج پرتاپ یادوکی رہائی کے بعد جے جے ڈی نے کہا ہے کہ احتجاج میں گرفتاردیگرطلبا اورنوجوانوں کوبھی جلد رہا کیا جائے گا۔ اس سے قبل آرجے ڈی کے رہنما تیجسوی یادونے منگل کوخبردارکیا تھا کہ اگرگرفتارطلبا کوفوری طورپررہا نہ کیا گیا تواحتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



