Bharat Express DD Free Dish

Wangchuk Reacts to Pradhan Resignation: دھرمیندر پردھان کے استعفے پر سونم وانگچک کا ردِعمل، کہا- ’’یہ جمہوریت کی جیت ہے، اب جوابدہی کے بعد اصلاحات کی باری ہے‘‘

مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد سماجی کارکن سونم وانگچک نے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پُرامن عوامی تحریک، صبر اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد سماجی کارکن سونم وانگچک نے اسے جمہوریت کی ایک اہم فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ یہ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ان لاکھوں لوگوں کی کامیابی ہے جنہوں نے پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کی اور مسلسل جمہوری طریقے سے جدوجہد کی۔وانگچک نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ کامیابی براہِ راست عوام سے ابھرنے والی جمہوری تحریک کی فتح ہے۔ ان کے مطابق امن، صبر اور مسلسل کوششوں نے بالآخر اپنا اثر دکھایا۔ انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)، ملک کی جین زی (Gen Z) نسل اور ان تمام شہریوں کو مبارکباد دی جنہوں نے خوف کے ماحول سے اوپر اٹھ کر ملک بھر میں اپنی بات مضبوطی سے پیش کی۔انہوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ اب صرف جوابدہی طے کرنے کا وقت نہیں بلکہ تعلیمی نظام میں حقیقی اصلاحات کی جانب آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

نیٹ تنازع کے درمیان آیا بیان

سونم وانگچک کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹ-یو جی (NEET-UG) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پورے ملک میں طویل عرصے سے احتجاج جاری تھا۔ دہلی کے جنتر منتر پر بھی کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں مسلسل مظاہرے کیے جا رہے تھے۔ طلبہ، والدین اور مختلف تنظیموں نے امتحانی عمل کی شفافیت اور غیرجانبداری پر کئی سوالات اٹھائے تھے۔

استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کیا کہا؟

اپنے استعفے کے ساتھ دھرمیندر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ قوم کی خدمت ہمیشہ ان کی زندگی کی اولین ترجیح رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے وہ طلبہ کے مفاد، اساتذہ کے احترام اور تعلیمی اصلاحات کے لیے مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی امیدوں اور ان کے جائز حقوق کا احترام ہی ان کی عوامی زندگی کا بنیادی مقصد رہا ہے۔ پردھان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ-یو جی امتحان میں بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد مرکزی حکومت نے معاملے کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) کے حوالے کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی امتحان منسوخ کرکے دوبارہ کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اگلے سال سے امتحانی طریقہ کار تبدیل ہوگا

دھرمیندر پردھان نے بتایا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے اہم تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ سال سے نیٹ امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT) موڈ میں منعقد کیا جائے گا تاکہ امتحانی عمل کو مزید محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ابتدا ہی سے انہوں نے اس پورے معاملے کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی اس سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ امتحانی مافیا کی وجہ سے کسی بھی محنتی اور باصلاحیت طالب علم کا مستقبل متاثر نہ ہو۔

اپنے استعفے میں دھرمیندر پردھان نے جنتر منتر پر گزشتہ دس دنوں سے جاری احتجاج کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ان کی ذاتی عزت یا سیاسی شبیہ سے کہیں بڑا ہے، کیونکہ ان کے لیے سب سے اہم ملک کے نوجوانوں کا مستقبل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ طلبہ کسی قسم کی غلط فہمی، سیاسی کشمکش یا طویل قانونی تنازعات میں الجھیں۔ ان کے مطابق طلبہ کی پوری توجہ اپنی تعلیم اور مستقبل کی تعمیر پر مرکوز رہنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read