دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں طلبہ کے احتجاج کی گونج سات سمندر پار بھی سنائی دی۔ دنیا کے کئی بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس احتجاج کو نمایاں کوریج دیتے ہوئے اسے جرات مندانہ تحریک قرار دیا۔ نیویارک ٹائمز، بی بی سی، دی گارڈین، فنانشل ٹائمز اور الجزیرہ سمیت متعدد عالمی میڈیا اداروں نے اس معاملے کو تفصیل سے شائع کیا۔ قابل ذکر ہے کہ پیر کے روز سی جے پی نے نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک سمیت کئی مطالبات کے حق میں جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالا تھا۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پارلیمنٹ کی جانب بڑھتے مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج بھی کیا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ متعدد طلبہ کے خلاف قانونی کارروائی کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان واقعات پر عالمی میڈیا نے گہری نظر رکھی۔

نیویارک ٹائمز نے مظاہرین کے عزم کو نمایاں کیا
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں احتجاج کی تصویر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ سڑکوں پر خون بہا، لاٹھیاں برسیں اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے، لیکن مظاہرین پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ مارچ کے دوران ہونے والی جھڑپوں کے اگلے ہی دن ہزاروں طلبہ دوبارہ جنتر منتر پہنچ گئے اور حکومت سے جواب طلب کرنے لگے۔اخبار کے مطابق احتجاج کرنے والے طلبہ تعلیمی نظام اور بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر ناراض ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ طویل عرصے سے مطالبات اٹھائے جانے کے باوجود حکومت نے اب تک کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا۔

پولیس کارروائی بھی احتجاج کا حوصلہ نہ توڑ سکی: دی گارڈین
برطانوی اخبار دی گارڈین نے لکھا کہ پیر کو ہونے والی پولیس کارروائی کے باوجود طلبہ کی تحریک کمزور نہیں پڑی۔ اگلے ہی روز ہزاروں مظاہرین دوبارہ جنتر منتر پہنچ گئے، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ تحریک اب صرف تعلیم اور امتحانی نظام میں اصلاحات تک محدود نہیں رہی بلکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اسے حکومت کے خلاف اپنی ناراضی کے اظہار کا ذریعہ بھی سمجھ رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پولیس نے اپنی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔
راہل اور پرینکا کی حراست پر فنانشل ٹائمز کی نظر
برطانیہ کے معروف اقتصادی اخبار فنانشل ٹائمز نے طلبہ کی حمایت میں احتجاج کرنے والے کانگریس رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کی حراست کو اپنی نمایاں رپورٹ میں جگہ دی۔

اخبار کے مطابق طلبہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے خلاف راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کر رہے تھے، جہاں پولیس نے دونوں رہنماؤں کو راستے میں حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔
فنانشل ٹائمز نے مزید لکھا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے بھیجے گئے ایک مرکزی وزیر نے وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے راہل گاندھی کے مؤقف کو جمہوری روایات کے مطابق نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔
الجزیرہ نے وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا
قطر کے نیوز چینل الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں طلبہ کے احتجاج پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو نمایاں انداز میں پیش کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اتنے بڑے احتجاج اور پولیس کارروائی کے باوجود وزیر اعظم کی جانب سے اب تک کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا۔

الجزیرہ نے یہ بھی لکھا کہ دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کھل کر مظاہرین کی حمایت میں سامنے آئے، جس سے اس تحریک کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ماہرین کے حوالے سے الجزیرہ نے کہا کہ یہ تحریک اب صرف تعلیمی نظام یا امتحانات میں اصلاحات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے حکومتی جوابدہی، نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے عدم اطمینان اور جمہوری اداروں کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
