نئی دہلی : شیوسینا (یو بی ٹی) کے لیڈرآدتیہ ٹھاکرے نے نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر جاری طلبہ احتجاج اور پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت اور مہاراشٹر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ سے بات چیت کرنے کے بجائے ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جب سماجی کارکن انا ہزارے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے تو اُس وقت حکومت نے مذاکرات کے لیے پانچ وزراء کو مقرر کیا تھا، لیکن موجودہ حکومت پُرامن مذاکرات سے گریز کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہلی اور ممبئی میں نوجوانوں، طلبہ اور یہاں تک کہ کم عمر افراد کے ساتھ بھی سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے۔
آدتیہ ٹھاکرے نے دعویٰ کیا کہ آج بھی کئی نوجوانوں کو پولیس تھانوں میں طلب کرنے اور حراست میں لینے کے لیے نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔ آدتیہ ٹھاکرے نے بتایا کہ ان کی جماعت نے [email protected] کے نام سے ایک ای میل سروس شروع کی ہے، جس کے ذریعے ایسے افراد کو قانونی مدد فراہم کی جائے گی جن پر احتجاج یا اختلافِ رائے کی وجہ سے مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہوں یا انہیں حراست میں لیا گیا ہو۔
آدتیہ ٹھاکرے نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج میں تقریباً تمام طلبہ تنظیموں نے حصہ لیا، لیکن اے بی وی پی اس سے دور رہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اے بی وی پی تعلیمی اداروں میں صرف جھگڑوں اور گندی سیاست میں سرگرم رہتی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے بدھ کی صبح دہلی کے جنتر منتر پہنچ کر احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کریں گے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
آدتیہ ٹھاکرے نے مزید کہا کہ اگر حکومت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ طلبہ تحریک میں سماج دشمن عناصر شامل ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا انٹیلی جنس نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر سدا بھاؤ کھوت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خود کوئی امتحان پاس نہیں کر سکے، وہ آج طلبہ کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ان کے مطابق یہ معاملہ اب صرف سیاسی نہیں رہا ،بلکہ ملک بھر میں بڑی تعداد میں عام لوگ بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ رہے ہیں اور ان کے مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


