Bharat Express DD Free Dish

Jill Biden Wanted to Keep the Diamond Gifted by PM Modi: مودی کا دیا ہیرا اپنے پاس رکھنا چاہتی تھیں جل بائیڈن، لیکن اس وجہ سے امریکی حکومت کو واپس کرنا پڑا

جل بائیڈن کے مطابق جون 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سرکاری دورۂ امریکہ کے دوران انہیں یہ خصوصی ہیرا بطور تحفہ پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ ہیرا نہ صرف انتہائی خوبصورت تھا بلکہ لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کی صنعت میں بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور قیادت کی علامت بھی تھا۔

نئی دہلی: امریکہ کی سابق خاتونِ اول ڈاکٹر جل بائیڈن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے تحفے میں دیا گیا قیمتی ہیرا اپنے پاس رکھنا چاہتی تھیں، لیکن امریکی اخلاقی اور سرکاری قوانین کے باعث انہیں یہ تحفہ وفاقی حکومت کو واپس کرنا پڑا۔اپنی حالیہ خودنوشت“ویو فرام دی ایسٹ وِنگ: اے میموائر“ میں جل بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کی زندگی، سرکاری پروٹوکول اور غیر ملکی رہنماؤں کی جانب سے ملنے والے تحائف سے متعلق سخت ضابطوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اسی ہفتے منظرِ عام پر آنے والی اس کتاب میں انہوں نے متعدد دلچسپ واقعات کا ذکر کیا ہے، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے دیا گیا 7.5 قیراط کا لیب میں تیار کردہ ہیرا بھی شامل ہے۔ جل بائیڈن کے مطابق جون 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سرکاری دورۂ امریکہ کے دوران انہیں یہ خصوصی ہیرا بطور تحفہ پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ ہیرا نہ صرف انتہائی خوبصورت تھا بلکہ لیب میں تیار کیے جانے والے ہیروں کی صنعت میں بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور قیادت کی علامت بھی تھا۔انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ اکثر انہیں پھول، شراب یا دیگر معمولی تحائف ملتے تھے، لیکن بعض اوقات غیر معمولی اور قیمتی تحائف بھی موصول ہوتے تھے۔ مودی کی جانب سے دیا گیا یہ ہیرا انہی یادگار تحائف میں شامل تھا۔جل بائیڈن نے وضاحت کی کہ امریکی قوانین کے مطابق ایسے تحائف کسی فرد کو ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ اس کے سرکاری عہدے کو دیے جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ تحفہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں سمجھا گیا بلکہ امریکی وفاقی حکومت کی ملکیت قرار پایا۔انہوں نے بتایا کہ ایک مخصوص مالیت سے زیادہ قیمت والے تمام غیر ملکی تحائف کا سرکاری سطح پر جائزہ لیا جاتا ہے اور ان کا ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی سرکاری عہدیدار ایسا تحفہ اپنے پاس رکھنا چاہے تو اسے اس کی سرکاری طور پر مقرر کردہ مارکیٹ قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔

جل بائیڈن کے مطابق وزیر اعظم مودی نے انہیں بتایا تھا کہ یہ ہیرا ان کے آبائی شہر میں تقریباً 2,500 ڈالر کی لاگت سے تیار کیا گیا تھا اور اس کی رسید بھی موجود تھی۔ ابتدا میں انہوں نے سوچا کہ وہ یہ ہیرا خرید لیں گی، لیکن بعد میں امریکی محکمہ خارجہ نے اس کی قیمت 20 ہزار ڈالر مقرر کی، جس کے بعد انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ ترک کر دیا۔انہوں نے مزید لکھا کہ انہیں اس ہیرے کو اپنے دفتر میں نمائش کے لیے رکھنے یا سرکاری تقریبات میں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے اسے ایک انگوٹھی میں جڑوا لیا اور اپنے وائٹ ہاؤس کے دورِ اقتدار کے دوران مختلف سرکاری تقریبات میں پہنتی رہیں۔ تاہم عہدہ چھوڑنے کے بعد انہیں یہ انگوٹھی واپس حکومت کے حوالے کرنا پڑی۔جل بائیڈن کے مطابق یہ انگوٹھی اب دیگر صدارتی تحائف کے ساتھ ایک سرکاری گودام میں محفوظ ہے، جہاں کئی تحائف بعد میں تلف بھی کر دیے جاتے ہیں۔اپنی کتاب میں انہوں نے فرانس کی خاتونِ اول بریجٹ میکرون کی جانب سے ملنے والے ایک کنگن کا بھی ذکر کیا، جس سے انہیں جذباتی وابستگی تھی۔ اسی لیے انہوں نے سرکاری قواعد کے تحت اس کی قیمت ادا کرکے اسے اپنی ذاتی ملکیت میں لے لیا اور آج بھی اسے روزانہ پہنتی ہیں۔

یاد رہے کہ جون 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کا سرکاری دورۂ امریکہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں شاندار سرکاری ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا اور دفاع، سیمی کنڈکٹر، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شعبوں میں دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعاون کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read