امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے سے متعلق بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی اور غیر رسمی مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس کا ایک ڈرافٹ تہران کو موصول ہوا ہے۔اس تجویز کے مطابق ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو جنگ سے پہلے جیسی حالت میں بحال کرے گا۔ اس کے بدلے امریکہ اپنے آس پاس کے علاقوں سے فوجی دستے ہٹائے گا اور سمندری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ تاہم ایرانی ٹی وی نے واضح کیا ہے کہ یہ ابھی کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں بلکہ ابتدائی سطح کی ایک خاکہ تجویز ہے۔
مسودے میں اور کیا شامل ہے؟
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس تجویز میں کئی اہم معاملات پر ابھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ سب سے پہلے اس میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی میں کسی بڑے پیمانے پر تبدیلی شامل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے انتظام کو لے کر ایران اور عمان کے درمیان مشترکہ تعاون کی تجویز پر بھی ابھی اتفاق نہیں ہو پایا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ فی الحال حل طلب ہے۔مسودے میں یہ بھی درج ہے کہ جب تک کسی بھی قسم کی ٹھوس اور آزادانہ جانچ یا تصدیق نہیں ہو جاتی، ایران کوئی بڑا قدم آگے نہیں بڑھائے گا۔ اس کے ساتھ ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر 60 دنوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے منظوری دلا کر ایک لازمی بین الاقوامی معاہدے کی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہوگا کہ بعد میں دونوں فریقوں کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
فروری سے جاری تھی بات چیت
امریکہ اور ایران کے درمیان تیار ہو رہا یہ مفاہمتی معاہدہ دراصل فروری میں شروع ہونے والے تنازع کے بعد ہونے والی بالواسطہ بات چیت کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک نے براہ راست مذاکرات کے بجائے مختلف ذرائع کے ذریعے رابطہ برقرار رکھا تھا۔اس پورے عمل میں ایک تیسرے فریق یعنی پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ یعنی یہ ممکنہ معاہدہ اچانک سامنے نہیں آیا بلکہ طویل عرصے سے جاری غیر رسمی بات چیت اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ مانا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


