Bharat Express DD Free Dish

’’شریعت اور ہمارے وجود پرحملہ‘‘، یوسی سی اور وندے ماترم پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے کہا- اب عوام کی عدالت میں جانا ہوگا

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدراورسابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے الزام لگایا کہ دھارکی کمال مولا مسجد اوردیگرتاریخی مساجد اوروقف املاک پرتجاوزات اورتباہی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں: محض رسمی کارروائیوں، رسمی بیانات اورکاغذی کارروائی کا وقت ختم ہوگیا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خان اعظمی۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدراورسابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے بورڈ کے صدرکوخط لکھ کرکئی موضوعات پراپنی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے، جب شریعت اوروجود پرحملہ ہوتا ہے توعوام کی عدالت میں جانا ناگزیرہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منظم عوامی آواز، جمہوری احتجاج اورسڑکوں پردکھائے جانے والے اتحاد کا حکومتوں پربراہ راست اثرپڑتا ہے۔

راجیہ سبھا کے سابق رکن مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے کہا کہ بنگال جیسی ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں معصوم بچوں پروندے ماترم کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ وندے ماترم ہمارے توحیدی عقیدے پرسنگین حملہ ہے اوراسے کسی قیمت پربرداشت نہیں کیا جا سکتا۔

یوسی سی اوروندے ماترم شریعت پرسیدھا حملہ: مولانا اعظمی

انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ جیسی ریاست میں یونیفارم سول کوڈ (یوسی سی) نافذ کرنا اورپورے ملک میں اس کی تیاری کا چلنا ہمارے شریعت پرسیدھا حملہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بغیرکسی تاخیرکے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی۔ دوٹوک الفاظ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب محض رسمی کارروائیوں، رسمی بیانات اورکاغذی کارروائی کا وقت پوری طرح سے ختم ہوگیا ہے۔

عدالتی اورقانونی لڑائی سے متعلق بڑا بیان

مولانا عبداللہ خان اعظمی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دھارکی کمال مولا مسجد اوردیگرتاریخی مساجد اوروقف جائیداد پرتجاوزات اورانہیں برباد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اطمینان کی بات ہے اورملک بھی اس بات کی سراہنا کرتا ہے کہ بورڈ ان معاملوں میں پوری مستعدی کے ساتھ عدالتی اورقانونی لڑائی لڑرہا ہے۔ لیکن ہمیں اس تلخ حقیقت کوقبول کرنا چاہئے کہ فاشزم کے اس طوفان کوصرف بند دروازے کی قانونی کارروائیوں سے نہیں روکا جا سکتا۔ موجودہ حالات میں جب نظام کے بہت سے ستون دباؤکا شکارنظرآتے ہیں توصرف عدالتوں پرانحصارکرنا مجرمانہ غفلت ہوگی۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read