Bharat Express DD Free Dish

Shanxi Mining Accident: ’’شانشی کان حادثے پر ہندوستان کی ہمدردی قابل قدر‘‘ چین کے سفیر نے وزیراعظم مودی کے تعزیتی پیغام پر کیا شکریے کا اظہار

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کو شانشی صوبے کے چینیوان کاؤنٹی میں واقع لیوشینیو کول مائن میں گیس دھماکے کے سبب پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق حادثے میں اب تک 82 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 9 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اسے گزشتہ ایک دہائی میں چین کا بدترین کان حادثہ قرار دیا جارہا ہے۔

نئی دہلی: ہندوستان میں چین کے سفیر ژو فی ہانگ نے شانشی صوبے میں پیش آئے ہولناک کان حادثے پر وزیراعظم نریندر مودی کے تعزیتی پیغام کے بعد ہندوستان اور اس کے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ چینی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا: ’’وزیر اعظم نریندر مودی کے تعزیتی پیغام کی ہم قدر کرتے ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں ہندوستان کے عوام کی ہمدردی اور حمایت ہمارے لیے بے حد اہم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین، لاپتہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ چین کی ہمدردیاں ہیں، جبکہ ریسکیو اور راحت رسانی کی کارروائیاں پوری تیزی سے جاری ہیں۔

وزیراعظم مودی کا شی جن پنگ سے اظہارِ تعزیت

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز چین کے صدر شی جن پنگ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا تھا: ’’شانشی صوبے میں کان حادثے میں جانوں کے ضیاع پر دکھ ہوا۔ ہندوستان کے عوام کی جانب سے صدر شی جن پنگ اور چین کے عوام سے تعزیت کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے لاپتہ افراد کی جلد اور محفوظ بازیابی کے لیے دعا بھی کی۔

ایک دہائی کا بدترین کان حادثہ

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کو شانشی صوبے کے چینیوان کاؤنٹی میں واقع لیوشینیو کول مائن میں گیس دھماکے کے سبب پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق حادثے میں اب تک 82 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 9 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اسے گزشتہ ایک دہائی میں چین کا بدترین کان حادثہ قرار دیا جارہا ہے۔

755 اہلکار راحت کارروائیوں میں مصروف

چینی حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن کے لیے 755 افراد پر مشتمل ٹیم روانہ کی گئی ہے، جن میں ریسکیو اہلکار اور طبی عملہ شامل ہیں۔ حادثے میں زخمی ہونے والے 123 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جن میں دو کی حالت تشویشناک جبکہ دو دیگر شدید زخمی بتائے جارہے ہیں۔ 33 افراد علاج کے بعد گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ ژنہوا کے مطابق حادثے میں ملوث کمپنی کے ذمہ دار افراد کو قانون کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read