چنئی: سی جوزف وجے کی قیادت والی تملگا ویٹری کزگم (TVK) حکومت نے بدھ کے روز تمل ناڈو اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کامیابی کے ساتھ پاس کر لیا۔ اعتماد کے ووٹ میں حکومت کے حق میں 144 ووٹ جبکہ حکومت کے خلاف 22 ووٹ ڈالے گئے جبکہ پانچ اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری جانب ڈی ایم کے نے ووٹنگ سے قبل واک آؤٹ کر دیا، جس کے باعث ایوان کی مجموعی تعداد کم ہوگئی۔ تملگا ویٹری کزگم کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی ایم، وی سی کے اور انڈین یونین مسلم لیگ کی حمایت حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ اے ایم ایم کے سے خارج شدہ ایم ایل اے کماراج نے بھی حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔ اتحادی جماعتوں کی حمایت کے بعد حکومت کی مجموعی طاقت 120 ارکان تک پہنچ گئی، تاہم 144 ووٹ ملنے سے یہ اشارہ ملا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے کچھ باغی اراکین نے بھی پارٹی وہپ کے خلاف جا کر حکومت کی حمایت کی۔
اسمبلی میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے اندر اختلافات نمایاں
ایڈاپڈی کے پلانی سوامی نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کے تمام 47 اراکین حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے، لیکن اسمبلی کارروائی کے دوران پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ سابق وزیر اور ایم ایل اے ایس پی ویلومنی کی تقریر پر ایڈاپڈی پلانی سوامی کے حامیوں نے اعتراض بھی کیا۔ پلانی سوامی نے الزام لگایا کہ حکومت بعض اراکین اسمبلی کو وزارت اور بورڈ چیئرمین کے عہدوں کی پیشکش کر کے اپنی طرف لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
ادے ندھی اسٹالن کا طنز، ڈی ایم کے کا واک آؤٹ
ادے ندھی اسٹالن نے اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے ہوئے ٹی وی کے پر طنز کیا اور کہا کہ ان کی جماعت کے اتحادیوں کو حکومت نے اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم ایوان سے واک آؤٹ کر رہے ہیں، اب آپ کو اکثریت مل جائے گی، امید ہے آپ اچھی حکمرانی کریں گے۔‘‘ ادے ندھی اسٹالن نے یہ اپیل بھی کی کہ سابق حکومت کی عوامی فلاحی اسکیموں کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ تملگا ویٹری کزگم نے حالیہ انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر تاریخ رقم کی تھی، کیونکہ تمل ناڈو کی سیاست میں پہلی بار روایتی ڈی ایم کے۔اے آئی اے ڈی ایم کے دو قطبی نظام سے ہٹ کر نئی سیاسی صف بندی دیکھنے کو ملی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




