Tamil Nadu Chief Minister C Joseph Vijay: پولیس کو اچھے لوگوں کی دوست اور برے لوگوں کی دشمن ہونا چاہیے، تمل ناڈو اسمبلی میں امن و امان پر ہنگامے کے درمیان وزیراعلیٰ وجے کا بڑا بیان
وزیر اعلیٰ وجے نے مزید کہا کہ پولیس کو اقتدار کا مرکز نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے عوام کی حفاظت کرنی چاہیے۔گزشتہ 3 ماہ کے دوران سامنے آنے والے جرائم کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعات اچانک نہیں ہوئے بلکہ ان کے پیچھے پرانی دشمنی اور انتقام کا جذبہ بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا، ’’پولیس کو اقتدار کا مرکز نہیں بننا چاہیے،
Two Resolutions, One Stand: ’’ایف سی آر اے بل اور نیٹ کے خلاف دو قراردادیں، ایک موقف‘‘ مرکزی حکومت کو تمل ناڈو سے دوہرے جھٹکے کا سامنا
تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی کا ریاستی مفادات، سماجی انصاف اور تعلیمی حقوق کے نام پر مرکز کو دو ٹوک پیغام۔ ایف سی آر اے ترمیمی بل واپس لینے اور تمل ناڈو میں نیٹ ختم کرنے کا مطالبہ۔ کمل ہاسن نے بھی دونوں قراردادوں کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔
Tamil Nadu Assembly: تمل ناڈو اسمبلی میں مرکزی حکومت کے ایف سی آر اے بل کے خلاف متفقہ قرارداد منظور
تمل ناڈو حکومت نے واضح کیا کہ وہ قومی سلامتی کے تحفظ اور غیر ملکی عطیات کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کی مخالف نہیں ہے۔ راج موہن نے کہا کہ ریاستی حکومت قومی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس کی تشویش یہ ہے کہ مجوزہ ترامیم کا جائز تعلیمی، طبی، فلاحی اور سماجی اداروں پر غیر ضروری منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔
Tamil Nadu: وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی ٹی وی حکومت 144 ووٹوں کے ساتھ اسمبلی فلور ٹیسٹ میں کامیاب، ڈی ایم کے کا واک آؤٹ
تملگا ویٹری کزگم کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی ایم، وی سی کے اور انڈین یونین مسلم لیگ کی حمایت حاصل ہوئی۔ اتحادی جماعتوں کی حمایت کے بعد حکومت کی مجموعی طاقت 120 ارکان تک پہنچ گئی، تاہم 144 ووٹ ملنے سے یہ اشارہ ملا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے کچھ باغی اراکین نے بھی پارٹی وہپ کے خلاف جا کر حکومت کی حمایت کی۔
CM Vijay to face floor test: وزیراعلیٰ سی جوزف وجے آج اسمبلی میں کریں گے فلور ٹیسٹ کا سامنا، اے آئی اے ڈی ایم کے میں اندرونی اختلافات کی قیاس آرائیاں تیز
ٹی وی کے حکومت کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کی حمایت حاصل ہے۔ آج کا فلور ٹیسٹ صرف سی جوزف وجے کے لیے اکثریت ثابت کرنے کا امتحان نہیں بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے سیاسی اتحاد اور داخلی یکجہتی کے لیے بھی اہم مانا جا رہا ہے۔





