Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak-Mastermind Manish and Rakesh Detained: نیٹ 2026 پیپر لیک معاملہ: سی بی آئی کی تحقیقات شروع، کئی ریاستوں میں پھیلے نیٹ ورک اور مبینہ ماسٹر مائنڈ کا انکشاف، منیش اور راکیش حراست میں لئے گئے

اس معاملے میں دو اہم ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں۔ منیش یادو کو اس پورے نیٹ ورک کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے، جبکہ راکیش منڈاوریا پر پیپر تقسیم کرنے کا الزام ہے۔ راجستھان ایس او جی نے دونوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ منیش یادو کو جے پور سے پکڑا کیا گیا، تاہم اب تک باضابطہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

نئی دہلی: ملک کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری امتحان نیٹ یو جی 2026 کے پیپر لیک معاملے نے پورے تعلیمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس حساس معاملے کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے کر دی ہیں، جس کے بعد ایجنسی نے ابتدائی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیپر لیک نیٹ ورک صرف ایک ریاست تک محدود نہیں بلکہ مہاراشٹر، ہریانہ، راجستھان، بہار، جموں و کشمیر اور کیرلم سمیت کئی ریاستوں تک پھیلا ہوا ہے۔ تحقیقات کے دوران ”پرائیویٹ مافیا“ نامی ایک واٹس ایپ گروپ اور مبینہ ماسٹر مائنڈ منیش یادو کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ سی بی آئی حکام کے مطابق ایجنسی کو باضابطہ طور پر معاملے کی جانچ کا حکم مل چکا ہے اور جلد ہی ریگولر کیس درج کر کے خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ یہ ٹیم پورے نیٹ ورک کی چھان بین کرے گی اور ان تمام افراد کی شناخت کرے گی جو پیپر لیک سازش میں شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ راجستھان اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کی ابتدائی تحقیقات میں کئی اہم سراغ ملے ہیں، جن کی بنیاد پر سی بی آئی مختلف ریاستوں میں چھاپے مار سکتی ہے۔

تحقیقات کے مطابق نیٹ 2026 کا سوالیہ پرچہ مہاراشٹر کے ناسک میں واقع ایک پرنٹنگ پریس سے لیک ہوا۔ الزام ہے کہ وہاں سے سوالیہ پرچہ غیر قانونی طریقے سے کاپی کیا گیا اور بعد میں اسے مختلف ریاستوں میں پھیلایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سب سے پہلے پرچہ ناسک سے ہریانہ پہنچا، جہاں گروگرام کے ایک ڈاکٹر تک اس کی رسائی ہوئی۔ اس کے بعد سوالیہ پرچہ جے پور منتقل کیا گیا اور پھر راجستھان کے جموا رام گڑھ علاقے میں پہنچایا گیا۔ ذرائع کے مطابق جموا رام گڑھ سے یہ پرچہ سیکر پہنچا اور بعد میں وہاں سے ملک کی دیگر ریاستوں جیسے بہار، جموں و کشمیر اور کیرلم تک پھیل گیا۔ اس پورے معاملے نے ایک منظم بین الریاستی سازش کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ناسک کی پرنٹنگ پریس سے ایک شخص کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، جس سے تفتیش جاری ہے۔

سی بی آئی اب راجستھان ایس او جی سے اس کیس سے متعلق تمام دستاویزات، شواہد اور اب تک کی تفتیشی رپورٹ اپنے قبضے میں لے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سے بھی امتحان کے ریکارڈ، سوالیہ پرچوں کی ترسیل اور سکیورٹی سے متعلق تمام معلومات حاصل کی جائیں گی۔ تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ امتحان سے قبل ایک مبینہ ”گیس پیپر“ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے گردش کر رہا تھا۔ ایس او جی کی جانچ میں معلوم ہوا کہ اس گیس پیپر کے تقریباً 60 سوالات اصل امتحان میں لفظ بہ لفظ شامل تھے۔ حکام کے مطابق سوالات میں نہ صرف مواد بلکہ لائن، کاما اور الفاظ تک میں کوئی فرق نہیں تھا، جس سے پیپر لیک ہونے کے شبہات مزید مضبوط ہو گئے۔ جانچ ایجنسیوں کو ”پرائیویٹ مافیا“ نامی ایک واٹس ایپ گروپ بھی ملا ہے، جس میں تقریباً 400 ارکان شامل تھے۔ اس گروپ کے کیپشن میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ یہ گروپ صرف لیک شدہ امتحانی پرچے اپ لوڈ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ گروپ ممبران کو سخت ہدایت دی گئی تھی کہ سوالیہ پرچوں کو گروپ سے باہر فارورڈ نہ کیا جائے۔

اس معاملے میں دو اہم ملزمان کے نام سامنے آئے ہیں۔ منیش یادو کو اس پورے نیٹ ورک کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بتایا جا رہا ہے، جبکہ راکیش منڈاوریا پر پیپر تقسیم کرنے کا الزام ہے۔ راجستھان ایس او جی نے دونوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ منیش یادو کو جے پور سے پکڑا کیا گیا، تاہم اب تک باضابطہ ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے پہلے بایولوجی کے 90 سوالات اور کیمسٹری کے 35 سوالات لیک ہوئے تھے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امتحان میں شامل بایولوجی کے تمام 90 سوالات اور کیمسٹری کے 46 میں سے 35 سوالات وہی تھے جو پہلے ہی وائرل ہو چکے تھے۔ ملک بھر کے طلبہ اور والدین اب سی بی آئی تحقیقات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس تحقیقات کے ذریعے نہ صرف پورے پیپر لیک نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوگا بلکہ تعلیمی نظام کو بدنام کرنے والے بڑے چہروں کو بھی بے نقاب کیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read