نئی دہلی: وویک وہار کے بی-بلاک میں واقع چار منزلہ رہائشی عمارت میں اتوار کی صبح لگنے والی بھیانک آگ نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ عمارت میں سوئے ہوئے لوگوں کو باہر نکلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔ حکام کے مطابق کئی لاشیں اس قدر جل چکی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی، جس کے باعث اب شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔ مقامی رکن اسمبلی سنجے گوئل نے موقع پر پہنچ کر بتایا کہ عمارت میں کل 8 فلیٹس تھے اور تقریباً رات 3:45 بجے آگ بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی لاشیں مکمل طور پر جل کر ڈھانچے میں تبدیل ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔ تمام لاشوں کو گرو تیغ بہادر اسپتال کی مورچری میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کی جائے گی۔
آگ لگنے کی وجوہات پر ابہام
ابتدائی جانچ میں شارٹ سرکٹ کو آگ کی ممکنہ وجہ بتایا جا رہا ہے، تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشنر (اے سی) میں دھماکے کے بعد آگ بھڑکی۔ حکام کے مطابق اصل وجہ کا تعین پولیس اور فائر بریگیڈ کی مکمل تفتیش کے بعد ہی ہو سکے گا۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر کے مطابق صبح 3:47 بجے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر کئی فائر ٹینڈرز موقع پر روانہ کیے گئے۔ اب تک مختلف منزلوں سے 9 جھلسی ہوئی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جن میں پہلی منزل سے 1 لاش، دوسری منزل سے 5 لاشیں، سیڑھیوں کے قریب بند حصے سے 3 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لاشوں کو دہلی پولیس کی کرائم ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ سرچ آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔
8 خاندان، 15 افراد کو بچایا گیا
اطلاعات کے مطابق اس چار منزلہ عمارت میں 8 خاندان رہائش پذیر تھے۔ آگ لگنے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے 10 سے 15 افراد کو بحفاظت باہر نکالا، جن میں سے دو افراد معمولی زخمی ہوئے اور انہیں گرو تیغ بہادر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی سنگین یاد دہانی ہے کہ رہائشی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات، برقی نظام کی باقاعدہ جانچ اور ایئر کنڈیشنر جیسے آلات کی دیکھ بھال کتنی ضروری ہے۔ حادثے کی شدت اور جانی نقصان نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جبکہ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ تلاشی مہم ابھی جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
