نئی دہلی: مشرقی دہلی کے علاقے ویویک وہار میں اتوار کی صبح ایک دردناک حادثہ پیش آیا، جہاں اے سی میں دھماکے کے بعد چار منزلہ رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے میں اب تک 9 افراد کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ کئی دیگر افراد شدید جھلس گئے ہیں۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے اور لوگوں کو محفوظ نکالنے میں مصروف ہیں۔
آگ لگنے کی وجہ اور ابتدائی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق، آگ لگنے کی ابتدائی وجہ اے سی میں دھماکہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ صبح تقریباً 3:13 سے 3:47 کے درمیان پیش آیا، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ آگ دوسری منزل کے ایک فلیٹ سے شروع ہوئی اور تیسری منزل تک پھیل گئی، جس سے عمارت میں رہنے والے افراد پھنس گئے۔
ریسکیو آپریشن اور جانی نقصان
حادثے کی اطلاع ملتے ہی 10 سے زائد فائر ٹینڈرز موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے دھوئیں اور آگ کے درمیان سے 12 سے 20 افراد کو بحفاظت باہر نکالا۔ تاہم، کئی افراد عمارت میں پھنس گئے تھے، جن میں سے کچھ چھت کی طرف بھاگے لیکن راستہ بند ہونے کی وجہ سے جان نہیں بچا سکے۔ اب تک 9 لاشیں برآمد ہوچکی ہیں جبکہ 4 سے زائد افراد زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
انتظامیہ اور مقامی افراد کا ردعمل
حادثے کے بعد شاہدرہ ضلع کے ڈی سی پی راجندر پرساد مینا بھی موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ عمارت میں کئی خاندان رہتے تھے اور تلاش کا کام ابھی جاری ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، عمارت میں نصب فائر سیفٹی سسٹم نے کچھ حد تک مدد کی، لیکن آگ کی شدت بہت زیادہ تھی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کئی لوگوں کو بالکونی کے راستے نکالا گیا، جبکہ کچھ افراد پیچھے کے حصے میں پھنس گئے تھے۔
دوسرا واقعہ اور حفاظتی ہدایات
اسی دوران دہلی کے گوکل پوری علاقے میں بھی ایک علیحدہ واقعہ پیش آیا، جہاں اے سی دھماکے سے چار سالہ بچے کی موت ہوگئی جبکہ اس کا بھائی شدید زخمی ہوگیا۔ ماہرین نے ایسے حادثات سے بچنے کے لیے چند اہم احتیاطی تدابیر بتائی ہیں، جن میں اے سی کو طویل وقت تک مسلسل نہ چلانا، بروقت سروس کروانا اور کسی بھی خرابی کی صورت میں فوری طور پر ماہر ٹیکنیشن سے رابطہ کرنا شامل ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر شہری علاقوں میں آگ سے حفاظت کے انتظامات اور برقی آلات کے محفوظ استعمال پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ حکام کے مطابق، حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار عوامل کا تعین کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
