نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی بھی منصوبہ یا تجویز زیر غور نہیں ہے جس کے تحت ایندھن کی قیمتوں میں 25 سے 28 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا جائے۔ جمعرات کے روز جاری ایک باضابطہ بیان میں پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ان میڈیا رپورٹس کو ”فیک نیوز“ قرار دیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جاری اسمبلی انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے سامنے اس نوعیت کی کوئی تجویز موجود نہیں ہے اور عوام کو افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے مستند ذرائع پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس قسم کی خبریں عوام میں خوف اور بے چینی پیدا کرنے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ شرارت پر مبنی بھی ہیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں گزشتہ چار برسوں کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں نے صارفین کو ممکنہ بوجھ سے بچانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس سے قبل بدھ کے روز روزانہ کی پریس بریفنگ میں بھی وزارت نے واضح کیا تھا کہ ملک بھر میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی سپلائی مکمل طور پر معمول کے مطابق جاری ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ کسی بھی قسم کی گھبراہٹ میں آ کر ایندھن کی ذخیرہ اندوزی نہ کریں اور صرف سرکاری معلومات پر یقین کریں۔
حکومت کے مطابق گھریلو ایل پی جی، پی این جی اور سی این جی کی 100 فیصد فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ صارفین کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکام نے بتایا کہ 23 مارچ 2026 سے اب تک پانچ کلوگرام والے چھوٹے گیس سلنڈروں کی فروخت 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ چھوٹے سلنڈر خاص طور پر مہاجر مزدوروں کے لیے بڑی سہولت ثابت ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر ان کی سپلائی کو دوگنا کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت مندوں تک آسانی سے رسائی ممکن ہو سکے۔ ادھر پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کے دائرہ کار کو بھی تیزی سے بڑھایا جا رہا ہے۔ مارچ 2026 سے اب تک تقریباً 5.10 لاکھ نئے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 2.56 لاکھ کنکشن کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 5.77 لاکھ افراد نئے کنکشن کے لیے رجسٹریشن کروا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔
حکومت نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر صارفین کو پی این جی اپنانے کی ترغیب دے رہی ہے۔ کئی کمپنیاں نئے کنکشن پر خصوصی رعایتی پیشکشیں بھی دے رہی ہیں۔ ساتھ ہی ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گیس کنکشن کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ وضاحت کے بعد عوام میں پھیلی بے چینی میں کمی آئے گی اور توانائی کے شعبے میں استحکام برقرار رہے گا۔ حکومت نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افواہوں سے دور رہتے ہوئے صرف مستند معلومات پر ہی اعتماد کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


