نئی دہلی: جلیانوالہ باغ قتل عام کے شہداء کی یاد میں ملک بھر میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ان عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ صدر دروپدی مرمو نے اپنے پیغام میں کہا کہ جلیانوالہ باغ کے شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی۔ انہوں نے کہا کہ قوم ہمیشہ ان عظیم مجاہدین کی مقروض رہے گی اور ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کو وطن کی خدمت کے لیے مسلسل ترغیب دیتی رہیں گی۔
وزیر اعظم کا پیغام—قربانی ایک زندہ علامت
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں کہا کہ جلیانوالہ باغ کے شہداء کی قربانیاں قوم کے عزم اور حوصلے کی ایک طاقتور علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مجاہدین نے جس بہادری اور استقلال کا مظاہرہ کیا، وہ آنے والی نسلوں کو آزادی، انصاف اور وقار کی اقدار کو برقرار رکھنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔ وزیر اعظم نے اپنے ایک اور بیان میں اس سانحے کو برطانوی استعمار کی بربریت کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ملک کی ہر نسل کو بیدار رکھنے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔
تاریخی پس منظر اور انقلابی اثرات
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اس موقع پر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 13 اپریل 1919 کو پیش آنے والا یہ واقعہ برطانوی حکومت کے ظالمانہ چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہتے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سانحے نے عظیم انقلابیوں جیسے بھگت سنگھ اور اودھم سنگھ کے دلوں میں آزادی کی چنگاری کو مزید بھڑکا دیا، جو بعد میں ایک مضبوط تحریک میں تبدیل ہوئی۔ جلیانوالہ باغ کا یہ سانحہ آج بھی ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے اور اس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


