بکسر: بہار کے ضلع بکسر سے ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی پر حملے کی مبینہ سازش رچنے کے الزام میں تین نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس معاملے کا مرکزی ملزم ایک سائبر کیفے چلاتا ہے، جس نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو ای میل بھیج کر وزیر اعظم کو نقصان پہنچانے کی پیشکش کی اور اس کے بدلے کروڑوں روپے کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق جیسے ہی یہ ای میل امریکی خفیہ ایجنسی تک پہنچی، انہوں نے فوری طور پر بھارتی حکام کو الرٹ کیا، جس کے بعد سیکیورٹی ایجنسیاں حرکت میں آ گئیں اور معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ اس پیش رفت نے مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ مرکزی خفیہ اداروں کو بھی متحرک کر دیا۔
بکسر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شبھم آریہ کے مطابق مرکزی ملزم اَمن، جو سمری تھانہ علاقے کے آشا پنری گاؤں کا رہنے والا ہے، نے محض مالی لالچ میں یہ قدم اٹھایا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی ای میل میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ وزیرِ اعظم کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے اسے 22 دن کا وقت درکار ہوگا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اَمن سمری میں ایک سائبر کیفے چلاتا ہے، جہاں سے اس نے یہ ای میل تیار کر کے بھیجی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے کسی واضح منصوبے کی تفصیل فراہم نہیں کی، تاہم اس کے دعوے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا، جس کے باعث فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو اس کے سائبر کیفے سے گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش دو دیگر نوجوانوں کے نام بھی سامنے آئے، جنہیں بعد میں حراست میں لے لیا گیا۔ تینوں ملزمان سے سختی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ کسی منظم سازش کا حصہ ہے یا محض ایک غیر سنجیدہ اور خطرناک کوشش۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہیں کہ آیا ملزمان کے روابط کسی بیرونی یا سرحد پار دہشت گرد تنظیم سے تو نہیں ہیں۔ تاہم ابتدائی طور پر یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اقدام صرف شہرت حاصل کرنے یا غیر قانونی طور پر رقم کمانے کی ایک ناکام کوشش ہو سکتا ہے۔
ملزم کے اس غیر معمولی اقدام کے باعث مقامی سطح پر اس کے ذہنی توازن کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ ملزم ذہنی طور پر غیر مستحکم ہو سکتا ہے، تاہم پولیس اور سیکیورٹی ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور کسی بھی امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق وزیرِ اعظم جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز شخصیت کے حوالے سے اس نوعیت کی دھمکیوں کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا، چاہے ان میں عملی پہلو کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے معاملات میں فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہوتی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے۔ فی الحال بکسر پولیس کے ساتھ ریاستی اسپیشل برانچ اور دیگر خفیہ ایجنسیاں اس کیس کی باریکی سے تحقیقات کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ محض ایک انفرادی حرکت تھی یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش کارفرما ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
