پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف۔ (فائل فوٹو)
جب سے ایران نے آبنائے ہرمزکے راستے بحری جہازوں کی آمد ورفت روک دی ہے، جنوبی ایشیا اوریورپی ممالک کوپٹرول، ڈیزل اورایل پی جی کی قلت کا سامنا ہے۔ بھارت، نیپال اوربنگلہ دیش جیسے ممالک نے اس بحران کوکم کرنے کے لیے اہم اقدامات کئے ہیں، لیکن پاکستان اس بحران سے بچ نہیں سکا اوروہاں اسمارٹ لاک ڈاون لگا دیا گیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ میں اس کا اعلان کردیا ہے۔
پاکستان ریڈیوکے مطابق، شہبازحکومت نے پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری، گلگت بالتستان اورپاکستان کے زیرقبضہ کشمیرمیں مارکیٹیں، شاپنگ مالزاورتجارتی علاقے رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں شہبازشریف کی زیرصدارت ہونے والے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں توانائی کے تحفظ اورپٹرولیم مصنوعات کے استعمال کوکم سے کم کرنے پرتوجہ مرکوزکی گئی۔
اسلام آباد: 6 اپریل 2026
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات ، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کے حوالےسے اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کی. صوبہء پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان ، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بازار،… pic.twitter.com/BEsPreuQWa
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) April 6, 2026
شہبازحکومت نے صوبائی حکومت سے مشورہ پریہ بھی فیصلہ لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرزمیں بازاراورشاپنگ مالس رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔ اسی طرح سبھی جنرل اسٹور، ڈپارٹمنٹل اسٹوراورسبھی طرح کے مال رات 8 بجے بند ہوجائیں گے۔
میڈیکل اورفارمیسی پابندیوں سے باہر
اس کے علاوہ، بیکریاں، ریستوراں اورکھانے پینے کی دیگردکانیں، شادی ہال، ٹینٹ اوردیگرتجارتی مقامات جوشادیوں اوردیگرتقریبات کی میزبانی کرتی ہیں، رات 10 بجے کے بعد بند کردی جائیں گی۔ اجلاس میں نجی جائیدادوں اورگھروں میں رات 10 بجے کے بعد شادی کی تقریبات پرپابندی عائد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ تاہم میڈیکل اسٹورزاورفارمیسیوں کوان پابندیوں سے باہر رکھا گیا ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندیاں منگل سے نافذ ہوں گی۔ یعنی پاکستان میں آج رات 8 بجے سے اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
