Bharat Express DD Free Dish

Daughter Welcomed with Drums After Divorce: طلاق کے بعد ڈھول نگاڑوں کے ساتھ بیٹی کا استقبال… والد بولے: ’’بیٹی بوجھ نہیں‘‘ — تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

میرٹھ میں ایک شخص نے اپنی بیٹی کے طلاق ہونے پر غم منانے کے بجائے اسے “نئی شروعات” کے طور پر منایا۔ ’I Love My Bitiya‘ لکھی ٹی شرٹ پہن کر انہوں نے ڈھول نگاڑوں کے ساتھ اپنی بیٹی کی گھر واپسی کرائی۔

 میرٹھ سے دل کو چھو لینے والی ایک خبر نے سماج کی دقیانوسی سوچ پر زوردار ضرب لگائی ہے۔ ایک باپ نے اپنی بیٹی کے طلاق ہونے پر غم منانے کے بجائے اس کا استقبال ڈھول نگاڑوں اور آتش بازی کے ساتھ کیا۔

روایتی فکر کے حامل سماج کو سخت پیغام

دراصل، میرٹھ کے کنکرکھیڑا علاقے کے رہنے والے پریم کمار (بدلا ہوا نام) کی بیٹی کی شادی چند سال قبل دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ لیکن سسرال میں ہراسانی اور باہمی اختلافات کے باعث رشتہ ٹوٹنے کی کگار پر پہنچ گیا۔ طویل قانونی لڑائی کے بعد جب ہفتہ یعنی 4 اپریل 2026 کو عدالت سے طلاق کی ڈگری ملی تو والد نے اپنی بیٹی کو واپس گھر لانے کا انوکھا فیصلہ کیا۔ عام طور پر سماج میں بیٹی کا طلاق ہونا ایک ’شرمناک عیب‘ یا ’غم‘ کی بات سمجھی جاتی ہے، لیکن اس باپ نے اسے اپنی بیٹی کی ’آزادی‘ اور ’نئی زندگی کی شروعات‘ کے طور پر منایا۔

آتش بازی کے ساتھ بیٹی کی گھر واپسی

والد نے سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی، جس پر بڑے حروف میں لکھا تھا — ’I Love My Bitiya‘۔ جیسے ہی بیٹی اپنی کار سے گھر پہنچی، والد نے ڈھول نگاڑے بجوائے۔ خاندان کے افراد نے ناچتے ہوئے اور پھول برساتے ہوئے بیٹی کا استقبال کیا۔ اس استقبال کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ لوگ اس والد کی ہمت اور مثبت سوچ کی تعریف کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ہر والد اپنی بیٹی کے ساتھ اس طرح کھڑا ہو جائے تو معاشرے میں جہیز اور گھریلو تشدد جیسی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read