مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز لوک سبھا میں کہا کہ ملک میں نکسل واد اب ختم ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں نریندر مودی نے واضح کر دیا تھا کہ ملک کے کسی بھی حصے، چاہے جموں و کشمیر ہو یا جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ، دہشت گردی اور انتہاپسندی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت کا آل ایجنسی اپروچ
حکومت نے تمام ایجنسیوں کو ساتھ لے کر کام کیا۔ سکیورٹی فورسز کے درمیان بہتر تال میل قائم کیا گیا اور سرینڈر پالیسی نافذ کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ترقیاتی کاموں اور انتظامیہ کو ان علاقوں تک پہنچایا گیا جہاں پہلے حکومت کی موجودگی نہیں تھی۔ اب ہر علاقے میں حکومت کی گرفت مضبوط ہوئی ہے، جو نکسل واد کے کمزور ہونے کی بڑی وجہ بنی ہے۔
20 اگست 2019: حکمت عملی کی شروعات
وزیر داخلہ نے بتایا کہ 20 اگست 2019 کو وزیر اعظم نے سکیورٹی فورسز کے افسران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جس میں نکسل واد کے خلاف مکمل حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم اس منصوبے کو نافذ کرنے میں وقت لگا، جس کی ایک وجہ کچھ ریاستوں میں اس وقت کی حکومتیں بھی تھیں۔
ریاستوں کے کردار پر سوال
وزیر داخلہ نے کہا کہ بہار، اوڈیشہ اور جھارکھنڈ جیسے ریاستوں میں 2024 سے پہلے ہی نکسل واد کافی حد تک ختم ہو چکا تھا۔ لیکن چھتیس گڑھ میں کانگریس حکومت کے باعث یہ مسئلہ برقرار رہا۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ بھپیش بگھیل پر الزام لگایا کہ ان کی حکومت نے نکسل واد کے خاتمے میں تعاون نہیں کیا۔
24 اگست 2024: بڑا اعلان
2024 میں چھتیس گڑھ میں حکومت تبدیل ہونے کے بعد مرکز اور ریاست کے درمیان بہتر تال میل قائم ہوا۔ 24 اگست 2024 کو امت شاہ نے اعلان کیا کہ ملک سے نکسل واد مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط کیا گیا۔ حکومت نے 406 نئے سی اے پی ایف کیمپ قائم کیے، 400 بُلٹ پروف گاڑیاں فراہم کیں اور جوانوں کے لیے پانچ اسپتال تیار کیے۔ مواصلاتی نظام بھی بہتر بنایا گیا۔ آج نکسلی متاثرہ اضلاع صرف دو رہ گئے ہیں اور شدید متاثرہ علاقے صفر ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں
2024 کے بعد اب تک 706 نکسلی مارے گئے، 2218 گرفتار ہوئے اور 4449 نے خود سپردگی اختیار کی۔ ان پولیس اسٹیشنوں کی تعداد، جہاں نکسلی واقعات درج ہوتے تھے، 350 سے گھٹ کر صرف 7 رہ گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



