Bharat Express DD Free Dish

Iran US Israel War: یوایس-یورپ میں ایران جنگ کے خلاف  90 لاکھ لوگوں کا احتجاج، ٹرمپ کی پالیسی پر ناراضگی، نیو یارک اور یورپی شہروں میں ‘نو کنگز’ پروٹیسٹ

وائٹ ہاؤس نے اس احتجاج کو ‘لیفٹ فنڈنگ نیٹ ورک’ کا حصہ قرار دیا، جب کہ ریپبلکن لیڈروں نے اسے ‘ہیٹ امریکہ’ ریلی کہا۔ اس دوران امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل سے نیشنل مال تک مارچ ہوا اور مظاہرین نے ‘نو کنگز’ کے نعرے لگائے

نئی دہلی :ایک ماہ سے جاری ایران جنگ کے درمیان امریکہ اور یورپ میں ایک بار پھر ‘نو کنگز’ پروٹیسٹ زور پکڑ گیا ہے۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ آرگنائزرز نے اندازہ لگایا کہ اس پروٹیسٹ میں تقریباً 9 ملین یعنی 90 لاکھ افراد شریک ہوئے۔ 50 ریاستوں میں 3100 سے زیادہ ایونٹس ہوئے۔ نیو یارک جیسے بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک پروٹیسٹ میں بھاری ہجوم دیکھنے کو ملا۔ اس دوران نہ صرف ایران جنگ کے خلاف بلکہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی، ٹرانس جینڈر رائٹس اور دیگر حکومتی فیصلوں پر بھی مظاہرین نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

منیسوٹا اور کیپیٹل پر سب سے بڑا اجتماع

منیسوٹا کے سینٹ پال کو اس پروٹیسٹ کا مرکزی مقام سمجھا گیا۔ کیپیٹل گراؤنڈ اور آس پاس کی سڑکوں پر ہزاروں لوگ جمع ہوئے، اور کئی مظاہرین نے الٹا امریکی جھنڈا اٹھایا، جو ایک بڑے سیاسی بحران کی نشاندہی ہے۔ آرگنائزرز نے دعویٰ کیا کہ یہاں تقریباً ایک لاکھ لوگ شریک ہوئے، جبکہ پچھلے جون میں اسی جگہ 80 ہزار افراد جمع ہوئے تھے۔

پروٹیسٹ کو سلیبریٹیز کا سپورٹ

پروٹیسٹ میں بروس اسپرنگسٹن نے پرفارم کیا اور ‘اسٹریٹس آف منیاپولس’ گانا گایا، جو حالیہ فائرنگ اور امیگریشن مسائل پر مبنی تھا۔ ان کے ساتھ جین فونڈ اور برنی سینڈر جیسے بڑے نام بھی موجود تھے۔ اس دوران رابرٹ ڈی نیرو کا ویڈیو پیغام چلایا گیا، جس میں انہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کی، جس سے پروٹیسٹ کو عوامی حمایت ملی۔

امریکہ کے 50 ریاستوں میں 3100 سے زائد ریلیاں

آرگنائزرز کے مطابق 50 ریاستوں میں 3100 سے زائد ریلیاں منعقد ہوئیں، جو گزشتہ پروٹیسٹ سے تقریباً 500 زیادہ ہیں۔ سان ڈیاگو میں 40 ہزار لوگ مارچ میں شامل ہوئے۔ چھوٹے شہروں اور کنزرویٹو ریاستوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے، جیسے ایڈاہو، وایومنگ اور مونٹانا۔

وائٹ ہاؤس کی تنقید اور یورپ میں مظاہرے

وائٹ ہاؤس نے اس احتجاج کو ‘لیفٹ فنڈنگ نیٹ ورک’ کا حصہ قرار دیا، جب کہ ریپبلکن لیڈروں نے اسے ‘ہیٹ امریکہ’ ریلی کہا۔ اس دوران امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل سے نیشنل مال تک مارچ ہوا اور مظاہرین نے ‘نو کنگز’ کے نعرے لگائے۔امریکہ کے باہر بھی یہ تحریک یورپ میں پھیل گئی۔ روم میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکلے اور جنگ کے خلاف نعرے لگائے، لندن میں ‘ اسٹاپ دی فار رائٹاور ’ اور ‘اسٹینڈاپ ٹوریسزم ’ کے پوسٹرز لہرائے گئے، اور پیرس میں بھی سینکڑوں افراد نے حصہ لیا، جن میں فرانس میں رہنے والے امریکی شہری بھی شامل تھے۔ مظاہروں میں سب سے نمایاں مطالبہ ‘War Free World’ کا رہا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read