ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغی اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حوثی، جنہیں یمنی انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، باب المندب آبنائے پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے یہ باغی گروپ بحیرہ احمر میں پہلے ہی کشیدگی پیدا کر چکا ہے اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں سینکڑوں اسرائیلی اہداف پر حملے کر چکا ہے۔امریکی میڈیا سی این این کے مطابق حوثیوں نے امریکہ اور برطانیہ سے وابستہ جہازوں کو بھی نشانہ بنایا، جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ امریکہ اور دیگر مغربی بحری افواج بحری جہازوں کو سکیورٹی فراہم کر رہی ہیں، تاہم اگر حوثی باب المندب آبنائے پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ باب المندب آبنائے بحیرہ روم اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک اہم بحری راستہ ہے، جو یورپ کو افریقہ اور ایشیا سے جوڑتا ہے۔ اس صورتحال کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت سے متعلق بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، تاہم ایران نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صرف تیسرے فریق کے ذریعے محدود پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا بیان
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں ثالثوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان مختلف پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، لیکن گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے تہران نے واشنگٹن کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں کیے۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے، اور ایران ان کے جواب میں اپنی پوزیشن واضح کر رہا ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ اسے مذاکرات نہیں بلکہ صرف پیغامات کا تبادلہ کہا جا سکتا ہے، اور ایران نے اپنے اصولی مؤقف کو دہرایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


