نئی دہلی :مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور اب ایران نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں پر تقریباً 20 لاکھ ڈالر (تقریباً 18.8 کروڑ بھارتی روپے) ٹول عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام عالمی بحری راستے پر اپنے کنٹرول کو ظاہر کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علاءالدین بروجردی نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا ٹول پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق دہائیوں بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنے اختیار کو نمایاں کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص جہازوں سے 20 لاکھ ڈالر کی وصولی ایران کی طاقت اور خودمختاری کا مظہر ہے۔
علاءالدین بروجردی نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں جنگی اخراجات میں اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے ایسے اقدامات ضروری ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹرانزٹ فیس لینا اسلامی جمہوریہ ایران کے حق اور طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کو سخت انتباہ دیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو کھلا نہ رکھا تو امریکہ ایرانی بجلی گھروں پر حملہ کر سکتا ہے، جس کی شروعات سب سے بڑے پاور پلانٹ سے کی جائے گی۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ نے ٹرمپ کی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے توانائی مراکز بھی ایران کی دسترس میں ہیں اور انہیں ایک ہی دن میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس طرح کے اقدامات عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت بھی اس کے اثرات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں دنیا بھر کی نظریں اس حساس خطے پر مرکوز ہیں، جہاں کسی بھی وقت حالات مزید سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




