اسّی کی دہائی کی مشہور اداکارہ مدھو ملہوترا اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ جمعہ کے روز ممبئی میں 71 برس کی عمر میں انہوں نے آخری سانس لی۔ خبروں کے مطابق مدھو طویل عرصے تک فلمی صنعت کا حصہ رہیں اور ان کی پہچان ایک ایسی اداکارہ کے طور پر تھی جنہوں نے اپنی مختصر مگر اثر انگیز کرداروں کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں خاص جگہ بنائی۔
’لمبی جدائی‘ کی وہ یادیں
جب بھی فلم ہیرو کا ذکر ہوتا ہے تو ریشمہ کی آواز میں سجا وہ لازوال گانا لمبی جدائی ذہن میں خودبخود گونجنے لگتا ہے۔ پردے پر اس درد اور جدائی کو جس اداکارہ نے اپنی جذباتی اداکاری اور رنگ برنگے جپسی لباس میں زندہ کر دیا تھا، وہ مدھو ملہوترا ہی تھیں۔
اگرچہ فلم کے مرکزی کردار جیکی شروف اور میناکشی شیشادری نے ادا کیے تھے، لیکن اس ایک گانے نے مدھو کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔ آج بھی جب یہ گانا بجتا ہے تو ان کا چہرہ ناظرین کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔
’ستّے پہ ستّہ‘ کی وہ چلبلی جوڑی
اداکارہ مدھو ملہوترا نے اپنے کیریئر میں 100 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے راج سپی کی سپرہٹ فلم ستّے پہ ستّہ میں سات بہوؤں میں سے ایک کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں ان کی جوڑی مشہور کامیڈین پینٹل کے ساتھ تھی۔ اس دور میں ناظرین نے ان کی سادگی اور اسکرین پر موجودگی کو بے حد پسند کیا تھا۔
سبھاش گھئی کی فلموں کا جانا پہچانا چہرہ
شو مین سبھاش گھئی کے ساتھ مدھو کا خاص تعلق رہا۔ انہوں نے گھئی کی کئی بڑی فلموں جیسے وشواناتھ، قرض اور ودھاتا میں چھوٹے مگر یادگار کردار ادا کیے۔ اس کے علاوہ وہ موسم مستانہ جیسے گانوں میں بھی اپنی مسکراہٹ بکھیرتی نظر آئیں۔90 کی دہائی میں انہوں نے موہن بھاکری کی ہارر فلموں جیسے خونی مردہ اور روحانی طاقت میں بھی کام کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہر طرح کے سنیما کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ماہر تھیں۔
فلمی دنیا میں غم کی لہر
ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی فلمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ ہدایت کار انل شرما نے، جنہوں نے مدھو کے ساتھ فلم شردھانجلی میں کام کیا تھا، گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدھو ایک نہایت پروفیشنل اور نیک دل انسان تھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


