Urdu Conclave 2026

Singrauli Violence Protest: سنگرولی میں تصادم: تھانے پر حملہ، پولیس نے کیا آنسو گیس کا استعمال، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟

پولیس کے مطابق پون شاہ 9 مارچ کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے گھر سے نکلا تھا، جس کے بعد وہ واپس نہیں آیا۔ کئی دن تک تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ بدھ کے روز گاؤں پپّرکھڑ کے ایک ویران مکان سے اس کی لاش ملنے کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا۔

بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرولی میں ایک نوجوان لڑکے کے قتل کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ موروا تھانہ علاقے میں بدھ کی شام اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہو گیا جب 9 مارچ سے لاپتہ 15 سالہ لڑکے پون شاہ کی لاش ایک سنسان مکان سے برآمد ہوئی۔ لاش ملتے ہی اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مشتعل ہجوم نے موروا تھانے کا گھیراؤ کر لیا جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق پون شاہ 9 مارچ کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے گھر سے نکلا تھا، جس کے بعد وہ واپس نہیں آیا۔ کئی دن تک تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ بدھ کے روز گاؤں پپّرکھڑ کے ایک ویران مکان سے اس کی لاش ملنے کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا۔

قتل کی سازش اور خاندان کا الزام
متوفی کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ پون شاہ کا چند روز قبل محلے میں غیر قانونی شراب کے کاروبار سے وابستہ کچھ افراد کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق 5 مارچ کو ہونے والے اس تنازع کے دوران ملزمان نے پون کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پولیس کو بروقت شکایت بھی دی گئی تھی اور ملزمان کے نام بھی بتائے گئے تھے، لیکن فوری کارروائی نہ ہونے کے باعث ان کے بیٹے کی جان چلی گئی۔ اسی بات پر مقامی لوگوں میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔

تھانے پر حملہ اور گاڑیوں کو آگ
لاش ملنے کی خبر پھیلتے ہی مشتعل ہجوم موروا تھانے کے باہر جمع ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں مظاہرین نے پولیس اسٹیشن پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس دوران کئی پولیس گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے اور تھانے کے باہر کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب کچھ افراد نے مرکزی ملزم کی اسکارپیو گاڑی اور اس کی دکان کو آگ لگا دی۔ پولیس نے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے کئی راؤنڈ آنسو گیس کے گولے داغے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج بھی کیا۔ جھڑپوں کے دوران بعض شرپسندوں نے مبینہ طور پر بارودی بم اور پتھروں سے بھی حملہ کیا جس کے باعث کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے اور انہیں جان بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑا۔

پولیس کی کارروائی اور ایس آئی ٹی کی تشکیل
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سنگرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔ ایس ڈی او پی راہل کمار سیام کے مطابق تکنیکی شواہد اور ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد، سدھانشو گپتا اور محمد ارشاد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران دونوں ملزمان نے قتل کا اعتراف کیا ہے اور بتایا ہے کہ پرانی دشمنی کی بنیاد پر اس واردات کو انجام دیا گیا۔

علاقے میں کشیدگی، اضافی پولیس تعینات
دیر رات تک جاری رہنے والے ہنگاموں کو قابو میں کرنے کے لیے سنگرولی کے رکن اسمبلی رام نواس شاہ اور بی جے پی کے ضلع صدر سندر لال شاہ بھی موقع پر پہنچے اور لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انتظامیہ نے پورے علاقے کو سکیورٹی کے حصار میں لے لیا ہے اور قریبی تھانوں سے اضافی پولیس فورس طلب کر لی گئی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے صبر اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی ہے، تاہم مقامی افراد ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور ان کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read