Bharat Express DD Free Dish

LS Rejects Opposition Resolution: لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کو ہٹانے کی اپوزیشن کی قرارداد صوتی ووٹ سے مسترد، امت شاہ نے اپوزیشن کو کو بنایا نشانہ

اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے مسلسل نعرے بازی کے درمیان جگدمبیکا پال نے آواز کے ووٹ کے ذریعے قرارداد پر فیصلہ کرایا اور اعلان کیا کہ یہ قرارداد مسترد کر دی گئی ہے۔ بحث کے جواب میں وزیر داخلہ امت شاہ نے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لانے پر اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

نئی دہلی: لوک سبھا نے بدھ کے روز اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کی پیش کردہ قرارداد کو آواز کے ووٹ سے مسترد کر دیا۔ اس دوران ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن کے ارکان، خاص طور پر کانگریس پارٹی کے اراکین، وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے پارٹی رہنما راہل گاندھی کے بارے میں دیے گئے بیانات کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ یہ قرارداد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جواد نے پیش کی تھی۔ اس پر ایوان میں دو دن تک بحث ہوئی جس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس دوران جگدمبیکا پال، جو اس وقت کرسی صدارت پر موجود تھے، نے محمد جواد سے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے جواب کے بعد اپنی بات رکھ سکتے ہیں، لیکن پہلے کانگریس ارکان کو اپنی نشستوں پر واپس جانا ہوگا۔

نعرے بازی کے درمیان ووٹنگ

اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے مسلسل نعرے بازی کے درمیان جگدمبیکا پال نے آواز کے ووٹ کے ذریعے قرارداد پر فیصلہ کرایا اور اعلان کیا کہ یہ قرارداد مسترد کر دی گئی ہے۔ بحث کے جواب میں وزیر داخلہ امت شاہ نے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لانے پر اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً چار دہائیوں بعد لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لائی گئی ہے، جو پارلیمانی سیاست کے لیے افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایوان کی کارروائی باہمی اعتماد کی بنیاد پر چلتی ہے اور اسپیکر حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک غیر جانبدار نگہبان ہوتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا: ’’یہ ایوان بازار نہیں ہے، یہاں ارکان کو قواعد اور طریقہ کار کے مطابق ہی گفتگو کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس طویل عرصے تک اپوزیشن میں رہنے کے باوجود کبھی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد نہیں لائے۔ اس بحث میں ایوان کے 42 سے زائد ارکان نے حصہ لیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read