مظفرپور: رنگوں کے تہوار ہولی کے پیش نظر شہر میں جوش و خروش عروج پر ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں تہوار کی رونق صاف دکھائی دے رہی ہے۔ رنگ، گلال، پچکاریوں اور مختلف اقسام کے ماسک سے سجی دکانوں پر خریداروں کا ہجوم لگا ہوا ہے۔ خاص طور پر مشہور چھاتا بازار کی رنگ اور پچکاری تھوک منڈی میں غیر معمولی چہل پہل دیکھی جا رہی ہے۔ اس بار ہولی کے موقع پر ایک دلچسپ رجحان سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے پر مبنی ’مودی ماسک‘ کی مانگ اس قدر بڑھی کہ گزشتہ تقریباً دس دن سے یہ ماسک بازار میں دستیاب نہیں ہے۔ دکانداروں کے مطابق بھاری طلب کے باعث اسٹاک مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
چھاتا بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دوبارہ مال منگوانے کی کوشش کی، تاہم دہلی کے سپلائر نے بھی مناسب اسٹاک نہ ہونے کی بات کہی ہے۔ تاجروں کے مطابق اس سال مودی ماسک کی مانگ توقع سے کہیں زیادہ رہی، جس کی وجہ سے یہ ہولی سے پہلے ہی آؤٹ آف اسٹاک ہو گیا۔ دکاندار امت کمار نے بتایا کہ اس سال ہولی کے لیے نئی اور جدید رینج متعارف کرائی گئی ہے۔ ان کے مطابق ہائی پریشر گن، ٹینک پچکاری اور چارج ایبل الیکٹرک پچکاریوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اقسام کے ماسک بھی آئے تھے، مگر ’مودی ماسک‘ کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا اور وہ جلد فروخت ہو گیا۔
ایک اور تاجر ارشاد احمد کے مطابق روایتی پمپ والی پچکاریوں کے مقابلے میں اس بار جدید ڈیزائن اور زیادہ پریشر والی گنز بچوں اور نوجوانوں کو زیادہ متوجہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی منفرد آئٹمز اس مرتبہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں، لیکن مودی ماسک کی مانگ غیر معمولی رہی اور اسٹاک جلد ختم ہو گیا۔
دکاندار منٹو نے بتایا کہ چار دن قبل مودی ماسک کی ایک کھیپ موصول ہوئی تھی، جو چند ہی گھنٹوں میں فروخت ہو گئی۔ فی الحال دکانوں پر گلال، جدید پچکاریاں، الیکٹرک گن اور الیکٹرک ٹینک دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق اس سال الیکٹرک پچکاری خاص ٹرینڈ بن چکی ہے۔ مجموعی طور پر مظفرپور کے بازاروں میں ہولی کی تیاریوں کا جوش دیدنی ہے، جہاں خریدار رنگوں اور جدید ساز و سامان کی خریداری میں مصروف ہیں، جبکہ مودی ماسک کی کمی موضوعِ گفتگو بنی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


