نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان سرکاری ذرائع نے منگل کے روز بتایا کہ بھارت کے پاس تقریباً 25 دن کے لیے خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ موجود ہے۔ حکومت متبادل ذرائع سے خام تیل، ایل پی جی اور ایل این جی کی درآمد کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری اضافے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
وزیر پیٹرولیم کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس
پیر کے روز مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے مغربی ایشیا کی صورتحال کے تناظر میں خام تیل، ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا جائزہ لینے کے لیے وزارت اور سرکاری کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ کی۔ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بدلتی ہوئی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ملک میں اہم پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور مناسب قیمت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ بھارت مغربی ایشیائی ممالک سے خام تیل اور قدرتی گیس کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے، اس لیے خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
برآمدات و درآمدات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ
ادھر وزارت تجارت و صنعت کے تحت محکمۂ تجارت نے بھی مغربی ایشیا کی ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور اس کے بھارت کے ایکسپورٹ و امپورٹ کارگو پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اسٹیک ہولڈر مشاورت منعقد کی۔ اجلاس کی صدارت محکمۂ تجارت کے خصوصی سکریٹری سچندرا مشرا اور ڈائریکٹر جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) لاو اگروال نے کی۔ اس میں لاجسٹکس آپریٹرز، شپنگ لائنز، سنٹرل بورڈ آف ان ڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز، محکمۂ مالی خدمات، وزارت پیٹرولیم، وزارت بندرگاہ، جہازرانی و آبی گزرگاہیں، ریزرو بینک آف انڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔
کارگو نقل و حمل میں پیش بینی برقرار رکھنے پر زور
اسٹیک ہولڈرز نے موجودہ عملی ماحول کا جائزہ پیش کیا، جس میں شپنگ روٹس اور ٹرانزٹ ٹائم میں تبدیلیاں، جہازوں کے شیڈول میں ردوبدل، کنٹینرز اور آلات کی دستیابی، فریٹ اور انشورنس لاگت کے رجحانات، اور وقت کے پابند برآمدات پر اثرات شامل تھے۔ وزارت تجارت کے مطابق اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کارگو کی نقل و حرکت میں پیش بینی برقرار رکھی جائے، غیر ضروری تاخیر کو کم کیا جائے اور برآمد کنندگان و درآمد کنندگان کے لیے دستاویزی اور ادائیگی کے عمل کو ہموار بنایا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
