Bharat Express DD Free Dish

Nagpur Explosive Blast: ناگپور کی ایس بی ایل انرجی فیکٹری میں زوردار دھماکہ، 15 مزدور ہلاک، متعدد شدید زخمی

مہاراشٹر کے ضلع ناگپور کی کٹول تحصیل کے راؤل گاؤں میں صنعتی دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

ممبئی: ریاست مہاراشٹر کے ضلع ناگپور کی کٹول تحصیل کے راؤل گاؤں میں قائم ایس بی ایل انرجی لمیٹڈ کے صنعتی و کانکنی دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والے کارخانے میں اتوار کی صبح زوردار دھماکہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک جبکہ متعدد کارکن شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق حادثہ صبح کے وقت اس وقت پیش آیا جب فیکٹری میں معمول کے مطابق کام جاری تھا اور تقریباً 20 سے 25 مزدور مختلف شعبوں میں مصروف تھے۔ اچانک ہونے والے شدید دھماکے نے پوری عمارت کو ہلا کر رکھ دیا جس کے باعث فیکٹری کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی جس سے قریبی دیہات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد آگ کا بڑا گولا اور گھنا دھواں فضا میں بلند ہوا جس کے بعد مزدوروں اور مقامی افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے کم از کم 18 افراد کو فوری طور پر ناگپور کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق متعدد افراد شدید جھلسنے اور دھماکے کے اثرات کے باعث گہرے زخموں کا شکار ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ انتظامیہ متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کر رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی مزید حادثے سے بچا جا سکے۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔ حکام کے مطابق فیکٹری کے حساس حصوں کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ پولیس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی غلط ہینڈلنگ یا حفاظتی اصولوں میں کوتاہی حادثے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ فیکٹری انتظامیہ اور ذمہ دار افسران سے پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ لائسنس، حفاظتی آلات اور آپریشنل معیار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اور آتش گیر سامان تیار کرنے والی فیکٹریوں میں معمولی لاپرواہی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہاراشٹر سمیت مختلف ریاستوں میں اس نوعیت کے کئی حادثات پیش آ چکے ہیں جنہوں نے صنعتی حفاظتی نظام پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read