گاندھی نگر (گجرات): وزیراعظم نریندر مودی 28 فروری کو گجرات کے شہر سناںد میں بھارت کی پہلی سیمی کنڈکٹر تیاری یونٹ کا افتتاح کریں گے۔ یہ جدید اے ٹی ایم پی (اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکنگ اور پیکیجنگ) پلانٹ امریکی چِپ ساز کمپنی مائکرون ٹیکنالوجی کی جانب سے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اعلیٰ معیار کا سیمی کنڈکٹر پلانٹ بھارت کی سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ مائیکرون سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے سناںد میں 22 ہزار 516 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ کمپنی کے بیان کے مطابق یہ منصوبہ بھارت کے سیمی کنڈکٹر سفر میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ فی الوقت اس یونٹ میں تقریباً 2 ہزار افراد کام کر رہے ہیں، جبکہ مستقبل میں 5 ہزار براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ کمپنی کے مطابق خصوصی افراد بھی آپریٹرز اور ٹیکنیشنز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جس سے معاشرے کے تمام طبقات کو مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل کی قیادت میں ریاست سیمی کنڈکٹر شعبے میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے اور یہ پلانٹ مقررہ وقت پر فعال ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔
اے ٹی ایم پی پلانٹ کیا تیار کرے گا؟
یہ یونٹ ایس ایس ڈی (سالڈ اسٹیٹ ڈرائیو) اسٹوریج ڈیوائسز، ریم کی اقسام ڈی ریم اور نینڈ مصنوعات تیار کرے گا۔ سناںد کا یہ پلانٹ عالمی منڈی کے لیے انٹیگریٹڈ سرکٹ پیکیجز، ماڈیولز اور سالڈ اسٹیٹ ڈرائیوز تیار کرے گا۔ یہاں مائکرون کی عالمی فیکٹریوں سے آنے والی جدید ڈی ریم اور نینڈ ویفرز کو مکمل میموری مصنوعات میں تبدیل کیا جائے گا، جو خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کریں گی۔ مائیکرون ٹیکنالوجی کے چیئرمین، صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سنجے مہروترا نے کہا کہ آج کی ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں، میموری اور اسٹوریج بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے نظام مؤثر کارکردگی کے لیے مضبوط میموری اور اسٹوریج پر انحصار کرتے ہیں، اور جیسے جیسے فوری اور تیز رفتار جوابات کی ضرورت بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے جدید میموری حل کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
سیمی کنڈکٹر چپ کیسے تیار ہوتی ہے؟
سیمی کنڈکٹر کی تیاری کا عمل ریت سے شروع ہوتا ہے، جس سے خالص سلیکان نکالا جاتا ہے۔ سلیکان کو پگھلا کر ایک سلنڈر کی شکل دی جاتی ہے جسے انگوٹ کہا جاتا ہے۔ اس انگوٹ کو باریک گول تختیوں یعنی ویفرز میں کاٹا جاتا ہے۔ فابریکیشن پلانٹ میں ان ویفرز پر الیکٹرانک پیٹرنز بنائے جاتے ہیں اور فوٹو لیتھوگرافی کے عمل کے ذریعے تہہ در تہہ ٹرانزسٹر تشکیل دیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں ویفرز کو چھوٹے مربع حصوں یعنی چِپس میں کاٹا جاتا ہے، جو پھر اے ٹی ایم پی پلانٹ پہنچتی ہیں۔ یہاں ان کی اسمبلی، جانچ، مارکنگ اور پیکیجنگ کی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں مارکیٹ کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ بھارت کو عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں مضبوط مقام دلانے کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
