Bharat Express DD Free Dish

Gujarat Development

وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ انہیں آج نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران ریاست کے غریبوں، نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کی زندگی میں خوشحالی لانے اور ان کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں وزیر اعظم سے رہنمائی اور قیمتی مشورے حاصل ہوئے۔

پی ایم او نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’بھارت سے آبی حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل سامنے آ رہا ہے جو وسیع تر گلوبل ساؤتھ کے لیے مفید سبق پیش کرتا ہے۔ آبی تحفظ صرف بنیادی ڈھانچہ بنانے کے بارے میں نہیں، بلکہ اچھی منصوبہ بندی، مضبوط مقامی نظام اور پانی کے انتظام میں برادریوں کو شامل کرنے کے بارے میں بھی ہے۔‘

گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور انڈیا پوسٹ کا اپنا ڈلیوری دفتر، اب اسپیڈ پوسٹ، پارسل، سیونگس بینک اور ڈیجیٹل بینکنگ سمیت کئی سہولیات ہوں گی دستیاب

گجرات کی یہ کامیابی صرف ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے عالمی موسمیاتی اہداف اور پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ گرین انرجی اور پائیدار ترقی کی سمت گجرات آج ملک کے لیے ایک مؤثر ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اس موقع پر گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور امت شاہ کی قیادت میں گجرات ترقیاتی سیاست کو قومی نظریے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اب آئی ٹی، انوویشن اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔

کمپلیکس میں مرکزی ڈائننگ ہال، لائبریری، آڈیٹوریم اور ای-لائبریری جیسی جدید سہولیات بھی شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے سرداردھام کمپلیکس کے مختلف حصوں کا دورہ بھی کیا، جن میں استقبالیہ، سول سہولیات، کھانے کا حصہ اور ای-لائبریری شامل تھے۔

وزیر اعظم نے پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبوں، سابرمتی ریور فرنٹ کی توسیع، اور رہائشی و تعلیمی سہولیات کے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ یہ تمام منصوبے گجرات میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور عوامی سہولیات میں بہتری لانے کے لیے اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔

کمپنی کے بیان کے مطابق یہ منصوبہ بھارت کے سیمی کنڈکٹر سفر میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ فی الوقت اس یونٹ میں تقریباً 2 ہزار افراد کام کر رہے ہیں، جبکہ مستقبل میں 5 ہزار براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

منصوبے پر تقریباً 350 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور اس کا مقصد دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کی فلاح ہے۔ 350 کروڑ کی لاگت سے بنا منصوبہ، دہلی-این سی آر کی ضروریات کو پورا کرے گا۔