یوپی پنچایت الیکشن میں تاخیر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اترپردیش میں سال 2026 میں ہونے والے سہ رخی پنچایت الیکشن آئندہ سال تک کے لئے ملتوی ہوسکتے ہیں۔ اس سے الیکشن کی تیاریوں میں مصروف لیڈران کوبڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سال 2027 میں یوپی اسمبلی الیکشن ہونا ہے اورریاست میں کمیشن کی تشکیل نہ ہونے اورریزرویشن عمل نامکمل رہنے کی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پنچایت الیکشن اوراسمبلی الیکشن ایک ساتھ ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سہ رخی پنچایت الیکشن کی تیاریاں چل رہی تھیں اورامید تھی کہ الیکشن آئندہ کچھ ماہ میں کرا دیئے جائیں گے، لیکن تازہ جانکاری کے مطابق، اس عمل پربریک لگتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی وجہ سے پنچایت الیکشن کے امیدواروں اورمقامی لیڈران میں کنفیوژن کی کیفیت ہے۔
پنچایت الیکشن میں کیا ہے تاخیرکی وجہ؟
تاخیرکی وجہ پسماندہ طبقات کمیشن (بیک ورڈ کاسٹ کمیشن) کی تشکیل نہ ہونا ہے۔ کمیشن کی مدت کار2025 میں ختم ہوچکی ہے اورضابطہ کے مطابق، ہرتین سال میں اس کی تشکیل لازمی ہے۔ ریزرویشن کا تعین اس کمیشن کی رپورٹ پرمبنی ہوتی ہے۔ عدالت میں دائرمفاد عامہ کی عرضی کے بعد حکومت نے حلف نامہ دے کرکمیشن کی تشکیل کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کمیشن کی تشکیل، سروے اورریزرویشن طے کرنے میں کم ازکم 4 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ ایسے میں ڈیڈ لائن خود بخود آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
سیاسی حکمت عملی یا انتظامی مجبوری؟
سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہے کہ اسمبلی الیکشن 2026 سے عین قبل پنچایتی انتخابات کا انعقاد کسی بھی پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔ پنچایتی سطح پرگروپ بندی اوراندرونی اختلافات بڑے الیکشن کومتاثرکرسکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاراسے اسمبلی انتخابات سے قبل تنظیمی اختلاف کوروکنے کے لیے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی بھی سمجھتے ہیں۔ تاہم حکومت نے سرکاری طورپراسے محض قانونی اورطریقہ کارمیں تاخیرقراردیا ہے۔
اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز
یوپی میں اسمبلی انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ سبھی سیاسی پارٹیاں اسمبلی الیکشن میں مصروف ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے سابق سینئرلیڈراورحال ہی میں کانگریس سے استعفیٰ دینے والے نسیم الدین صدیقی اب سماج پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ کانگریس میں تقریباً 9-8 سالوں تک رہنے کے بعد ان کی اکھلیش یادوسے بات چیت آخری دورمیں بتائی جا رہی ہے۔ خبروں کے مطابق، بنیادی طورپرباندہ کے رہنے والے نسیم الدین صدیقی کا اثربندیل کھنڈ اورمغربی اترپردیش تک مانا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ حامیوں کی مضبوط بنیاد جڑسکتی ہے۔ وہ اپنی فیملی اورقریبی لوگوں کے لئے سیٹوں پرمکمل یقین دہانی چاہتے ہیں۔ وہیں دوسرا بڑا نام پیلی بھیت کے لیڈرانیس احمد عرف پھول بابوکا ہے۔ بیسل پورسیٹ سے کئی باررکن اسمبلی رہ چکے پھول بابوکا اپنے علاقے میں انفرادی ووٹ بینک مضبوط مانا جاتا ہے۔ پیلی بھیت میں جہاں سماجوادی پارٹی نسبتاً کمزورہوگئی ہے، وہاں پھول بابوکا آنا کافی مضبوطی دے سکتا ہے۔ قیاس آرائی ہے کہ دونوں لیڈر 15 فروری کوباضابطہ طورپرسماجوادی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اسے سماجوادی پارٹی کی اہم اورمتوازن سیاسی حکمت عملی کے طورپردیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


