نئی دہلی :دہلی میں پیر کی صبح ایک بار پھر اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے سے ہلچل مچ گئی۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں واقع نو اسکولوں کو بم کی دھمکی آمیز کال موصول ہوئی، جس کے بعد دہلی پولیس، فائر بریگیڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آ گئیں۔پولیس کے مطابق یہ تمام دھمکی آمیز کالز صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان کی گئیں۔ ایک ہی وقت میں متعدد کالز آنے کے باعث سیکورٹی ایجنسیاں مکمل طور پر الرٹ ہو گئیں۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ اسکولوں کے اطراف سیکورٹی بڑھا دی گئی اور احتیاطی طور پر طلبہ اور عملے کی حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔
جن نو اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے، ان میں دہلی کینٹ کا لوریٹو کانونٹ اسکول، سری نواس پوری کا کیمبرج اسکول، روہنی کا وینکٹیشور اسکول، نیو فرینڈز کالونی کا کیمبرج اسکول، صادق نگر کا انڈین اسکول، روہنی کا سی ایم شری اسکول، آئی این اے کا ڈی ٹی اے اسکول، روہنی کا بال بھارتی اسکول اور نیو راجندر نگر کا ونستھلی اسکول شامل ہیں۔ تمام اسکولوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق فی الحال کسی بھی مشتبہ چیز کی اطلاع نہیں ملی ہے،قابل ذکر بات یہ ہےکہ مکمل تفتیش جاری ہے۔ ساتھ ہی دھمکی دینے والے شخص یا افراد کی شناخت کے لیے کال ڈیٹیلز اور تکنیکی شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جنوری سے فروری 2026 کے درمیان دہلی این سی آر میں اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 7 فروری کو ایک بڑے پیمانے پر بھیجے گئے ای میل کے بعد 50 سے زائد اسکولوں کو خالی کرایا گیا تھا، جسے بعد میں وزارت داخلہ نے فیک قرار دیا تھا۔اس سے قبل 28 اور 29 جنوری کو بھی سردار پٹیل ودیالیہ، لوریٹو کانونٹ اور ڈان بوسکو سمیت پانچ اسکولوں کو دھمکیاں ملی تھیں، تاہم تفتیش میں کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا اور چند گھنٹوں بعد تمام کیمپس کو محفوظ قرار دے دیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


