چھتیس گڑھ کے جشپور ضلع سے صحت کے نظام کو شرمسار کرنے والا ایک افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ ضلع اسپتال میں علاج کے لیے ایک 70 سالہ بزرگ خاتون کو چاٹ کے ٹھیلے پر بٹھا کر اسپتال لایا گیا، کیونکہ بروقت ایمبولینس دستیاب نہیں ہو سکی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس کے بعد محکمۂ صحت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ٹھیلے پر ضلع اسپتال پہنچی بزرگ مریضہ
موصولہ معلومات کے مطابق متاثرہ خاتون رجنی ہوتا پرانی ٹولی کی رہنے والی ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق خاتون کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی۔ حالت نازک ہونے پر انہوں نے 108 ایمبولینس سروس سمیت دیگر ذرائع سے مدد لینے کی کوشش کی، لیکن کافی دیر تک کوئی ایمبولینس نہیں پہنچی۔ مجبوری میں گاؤں والوں نے خاتون کو قریب موجود چاٹ کے ٹھیلے پر بٹھایا اور اسی حالت میں ضلع اسپتال پہنچایا۔
ویڈیو وائرل ہو گیا
کئی کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بزرگ خاتون کو اسپتال لایا گیا، جہاں موجود لوگوں نے اس منظر کو اپنے موبائل کیمرے میں قید کر لیا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انتظامیہ اور محکمۂ صحت کی لاپروائی پر عوام میں شدید ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی متعدد اسکیموں اور دعوؤں کے باوجود زمینی سطح پر حالات انتہائی خراب ہیں۔
سی ایم ایچ او نے کیا کہا؟
اس معاملے پر چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (CMHO) جی۔ایس۔ جاترا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ایمبولینس کو اطلاع دی گئی تھی، تاہم اس کے پہنچنے سے پہلے ہی تیماردار مریضہ کو اسپتال لے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون کا علاج جاری ہے اور فی الحال اس کی حالت مستحکم ہے۔ ساتھ ہی اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ ایمبولینس بروقت کیوں نہیں پہنچ سکی۔تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب جشپور ضلع سے اس طرح کی تصاویر سامنے آئی ہوں۔ اس سے پہلے بھی صحتی خدمات کی کمی اور ایمبولینس نظام کی لاپروائی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر دیہی علاقوں میں صحت سہولیات کی حقیقی صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے اور انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
