اسلام آباد: پاکستان کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا ہے۔ یہ کارروائی نومبر 2024 میں راولپنڈی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے متعلق کیس میں مسلسل عدالت میں پیش نہ ہونے کے باعث کی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ علیمہ خان کو بار بار طلب کیے جانے کے باوجود وہ سماعت کے دوران مسلسل غیر حاضر رہیں، جس کی بنا پر عدالت نے ان کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔
عدالت میں کیا ہوا؟
سماعت کے دوران علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے موقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ اس وقت تک عدالت میں پیش نہیں ہوں گی جب تک ان کے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ کو ڈی فریز نہیں کیا جاتا۔ اس پر خصوصی پراسکیوٹر ظہیر شاہ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملزم عدالت پر اپنی شرائط عائد نہیں کر سکتا اور نہ ہی عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کا رویہ شروع سے ہی غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے علیمہ خان کی ذاتی پیشی سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی اور ان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 فروری تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے منگل تک عدالت میں پیش کریں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جب تک علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہوتیں، ان کے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ منجمد ہی رہیں گے۔
مقدمے کا پس منظر
یہ مقدمہ 26 نومبر 2024 کے اس احتجاج سے جڑا ہے، جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں نے اسلام آباد میں حکومتی پابندی کے باوجود عوامی جلسہ نکالا اور ڈی چوک کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپیں ہوئیں۔ اس احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ تین روزہ احتجاج پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے تحت کیا گیا تھا، تاہم شدید جھڑپوں کے بعد یہ تحریک اچانک ختم ہو گئی۔ اس واقعے میں علیمہ خان سمیت 10 افراد پر ہنگامہ آرائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
سندھ میں گرفتاریوں کا معاملہ
میڈیا کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں ایم پی او (مینٹیننس آف پبلک آرڈر) آرڈیننس کے تحت ہونے والی کارروائیوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اتوار کے روز سندھ پولیس نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر صبح سویرے چھاپے مارے اور 180 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ تاہم سندھ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئیں۔
سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی
علیمہ خان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ اور پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کے بعد پاکستان کی سیاست میں مزید تناؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان اقدامات سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں احتجاج اور عدالتی کارروائیوں میں تیزی آسکتی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف علیمہ خان کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا ہے بلکہ پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال میں بھی نئے تنازعات اور ہلچل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس پر ملکی سیاست کی نظریں جمی رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

