رائے پور: چھتیس گڑھ کے سکما ضلع کے کسٹارام علاقے میں سرگرم چار ماؤ وادی کیڈروں نے تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے خود سپردگی اختیار کر لی ہے۔ ان ماؤ وادیوں پر مجموعی طور پر 8 لاکھ روپے کا انعام مقرر تھا۔ اس پیش رفت کو بستر خطے میں بڑھتے اعتماد، سلامتی اور ترقی کے ماحول کی ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے اس موقع پر کہا کہ ’نکسل فری بستر، محفوظ چھتیس گڑھ‘ کا عزم اب زمینی سطح پر پورا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ماؤ وادیوں کی خود سپردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور سیکورٹی فورسز کی مشترکہ کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں سیکورٹی فورسز کی مسلسل اور مربوط کارروائیوں، مضبوط کیمپ سسٹم، مؤثر علاقائی موجودگی اور بہتر سڑک و مواصلاتی سہولیات نے حالات کو یکسر بدل دیا ہے۔ ان اقدامات کے باعث ماؤ وادیوں کا اثر و رسوخ محدود ہو رہا ہے اور ان کی تنظیمی بنیاد کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بستر کے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہونے سے مقامی آبادی کا اعتماد حکومت پر بڑھا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات تک رسائی بہتر ہونے کے باعث نوجوان تشدد کے بجائے امن اور ترقی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
ریاستی حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ جو لوگ تشدد چھوڑ کر سماج کی مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، انہیں مکمل تحفظ، بازآبادکاری، مالی امداد اور باعزت زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ خود سپردگی کرنے والے ماؤ وادیوں کو سرکاری اسکیموں کے تحت روزگار اور تربیت کی سہولت بھی دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے کہا کہ بستر میں امن اور ترقی کا سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا۔ حکومت کا مقصد صرف ماؤ واد کا خاتمہ نہیں بلکہ خطے کے لوگوں کے لیے ایک محفوظ، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کی تعمیر ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آنے والے وقت میں بستر کو مکمل طور پر تشدد سے پاک بنا کر چھتیس گڑھ کو امن اور ترقی کی مثال بنایا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

