Chhattisgarh AI Elephant Conservation: تھرمل ڈرون اور اے آئی سے رکے گا ہاتھیوں اور انسانوں کا تصادم، چھتیس گڑھ کے منفرد ماڈل کی امریکی جریدہ MIT نے کی تعریف
چھتیس گڑھ کے اُدنتی-سیتاندی ٹائیگر ریزرو میں ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) اور تھرمل ڈرون پر مبنی ٹیکنالوجی کو امریکی جریدے MIT Technology Review میں عالمی سطح پر شناخت حاصل ہوئی ہے۔
Naxal Free India: بستر سے ’لال دہشت‘ کا خاتمہ، امت شاہ کا اعلان- اب بندوق نہیں، قبائلیوں کے ہاتھوں میں ہوگی ’سفید انقلاب‘ کی باگ ڈور
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بستر میں ”سفید انقلاب“ کا آغاز دراصل اس پورے خطے کی معاشی اور سماجی تقدیر بدلنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ ان کے مطابق جن علاقوں میں کبھی گولیوں کی آوازیں گونجتی تھیں، وہاں اب ترقی، زراعت اور خود کفالت کی نئی داستان لکھی جائے گی۔
Amit Shah On Naxalism: بستر میں بندوقوں کا دور ختم، اب لوگ آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ بستر اب خوف، تشدد اور بندوقوں کی شناخت سے باہر نکل کر ترقی، روزگار، تعلیم اور خوشحالی کی نئی مثال بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے برسوں میں بستر ملک کے ترقی یافتہ اور پُرامن علاقوں میں شمار ہوگا۔
Amit Shah Inaugurates: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بستر میں جنہت کیندر کا کیا افتتاح، وزیر اعلیٰ سائے بھی رہےموجود
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے پیر کے روز چھتیس گڑھ کے بستر ضلع کے نیتانار گاؤں میں ’شہید ویر گنڈادھور سیوا ڈیرا‘ کا افتتاح کیا۔ یہ جنہت کیندر سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کیمپ کے احاطے میں تعمیر کیا گیا ہے۔
Key Meeting Between Vishnu Deo Sai and Amit Shah: دہلی میں ’بستر ترقیاتی ماڈل‘ پر غور و خوض، وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے کی امت شاہ سے اہم ملاقات
ذرائع کے مطابق ملاقات میں بستر میں جاری ’’وزیر اعلیٰ صحت بستر مہم‘‘ کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا گیا۔ وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے مرکزی وزیر داخلہ کو بتایا کہ جن علاقوں میں ماضی میں ایمبولینس کی رسائی کو بھی مشکل تصور کیا جاتا تھا، آج وہاں طبی ٹیمیں، ڈاکٹرز اور ضروری ادویات باقاعدگی سے پہنچ رہی ہیں۔
Bastar Anti Naxal Operation: چھتیس گڑھ: بستر میں نکسلواد کے خاتمے کی تیاری، 19 مئی کو منعقد ہوگی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں ایک اہم اور اعلیٰ سطحی میٹنگ
ذرائع کے مطابق 19 مئی کی اس میٹنگ میں صرف چھتیس گڑھ ہی نہیں بلکہ دیگر اہم ریاستوں کی قیادت بھی شریک ہوگی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے، سرحدی علاقوں کی نگرانی بڑھانے اور نکسلیوں کے فرار کے راستوں کو بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
Bastar Naxal Free Amit Shah Deadline 2026: بستر کا 96 فیصد حصہ نکسلی قبضے سے آزاد، مرکزی وزیر داخلہ کے اہداف قبل از وقت حاصل
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ملک سے نکسلی سرگرمیوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے 31 مارچ 2026 کو جو ہدف مقرر کیا تھا، اسے ریاستی حکومت نے مقررہ وقت سے قبل حاصل کر لیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر داخلہ وجے شرما نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بستر اب ماؤ نوازوں کے تشدد اور دہشت گردانہ اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد ہے۔
PM Modi wishes CM Sai on birthday: وزیراعظم مودی سمیت ان لیڈروں نے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی کو یوم پیدائش پر دی مبارکباد
وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے وژ topics نے ریاست کی ڈبل انجن حکومت کو عوامی فلاح کے نئے سنگ میل تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ’وکست بھارت @2047‘ کے قومی وژن کو کامیاب بنانے میں چھتیس گڑھ مکمل عزم اور توانائی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
HM Amit Shah Chhattisgarh Visit: کبھی نکسلی تشدد کا گڑھ تھا چھتیس گڑھ، اب ترقی کی علامت بن چکا ہے: وزیر داخلہ امت شاہ
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ملک سے نکسل ازم کے مکمل خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ 31 مارچ تک اس مسئلے کو پوری طرح ختم کر دیا جائے گا۔
Chhattisgarh 4 Maoists Surrender: چھتیس گڑھ میں 8 لاکھ کے انعامی چار ماؤ وادیوں نے کیا سرنڈر، وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے کہا- حقیقت بنتا جا رہا ہے ’نکسل فری بستر‘ کا عزم
چھتیس گڑھ کے سکما ضلع کے کسٹارام علاقے میں سرگرم چار ماؤ وادی کیڈروں نے تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے خود سپردگی اختیار کر لی ہے۔ ان ماؤ وادیوں پر مجموعی طور پر 8 لاکھ روپے کا انعام مقرر تھا۔





