طویل ذہنی دباؤ سے قوتِ مدافعت متاثر، آج کی تیز رفتار اور مصروف زندگی میں اسٹریس تقریباً ہر انسان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ کام کا دباؤ، مالی مسائل، خاندانی ذمہ داریاں اور رشتوں میں پیچیدگیاں ذہنی تناؤ کو جنم دیتی ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسٹریس صرف ذہن کو متاثر کرتا ہے، مگر طبی ماہرین کے مطابق حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ مسلسل ذہنی دباؤ نہ صرف دماغی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ جسم کے مدافعتی نظام یعنی امیون سسٹم کو بھی کمزور کر دیتا ہے، جس سے انسان مختلف بیماریوں کی زد میں جلد آ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب کوئی انسان اسٹریس میں ہوتا ہے تو جسم اسے خطرے کی کیفیت سمجھ لیتا ہے۔ اس حالت میں جسم میں کارٹیسول اور ایڈرینالین جیسے اسٹریس ہارمون خارج ہوتے ہیں۔ قلیل مدت کے لیے یہ ہارمون فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان سے توجہ اور چوکنا پن بڑھتا ہے، لیکن اگر یہی کیفیت طویل مدت تک برقرار رہے تو یہ ہارمون جسم کے لیے نقصان دہ بن جاتے ہیں۔ مسلسل اسٹریس جسمانی نظام میں عدم توازن پیدا کرتا ہے اور مختلف اعضا کے افعال کو متاثر کرنے لگتا ہے۔
طبی تحقیق کے مطابق لمبے عرصے تک ذہنی دباؤ رہنے سے جسم میں لیمفوسائٹس، یعنی سفید خون کے خلیات، کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔ یہ خلیات انفیکشن اور بیماریوں سے لڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی کمی کے باعث جسم کی قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے اور انسان بار بار نزلہ، زکام، بخار اور دیگر انفیکشنز کا شکار ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ اسٹریس میں رہنے والے افراد نسبتاً جلد بیمار پڑ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلسل ذہنی تناؤ پٹھوں کی اکڑن، معدے کے مسائل، دل کی صحت پر منفی اثرات، سانس لینے میں دشواری، ہڈیوں اور جوڑوں کے درد اور ہارمونل بے ترتیبی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس کو مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ضرور ہے، لیکن اسے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ روزانہ 10 سے 15 منٹ تک مراقبہ یا میڈیٹیشن کرنے سے اسٹریس ہارمون کم ہوتے ہیں اور ذہن کو سکون ملتا ہے۔ یوگا اعصابی نظام کو پرسکون رکھنے اور قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ متوازن غذا جیسے پھل، سبزیاں، پروٹین اور ثابت اناج جسم کو مضبوط بناتے ہیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی مناسب نیند بھی اسٹریس کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ انسان اپنے اسٹریس کے اسباب کو پہچانے تاکہ ان سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے اور صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھایا جا سکے۔
ببھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

